اصحاب احمد (جلد 5) — Page 362
نے ان کو نعمت پر رفعت عطا فرمائی۔یہ بزرگ مسیح پاک کا پر تو تھے۔روحانی فیض سے بہرہ ور ہوئے۔اللہ اور اس کے پاک بندے کے نزدیک محبوب ہو گئے جنہیں ہم صحابہ کرام کے معزز لقب سے یاد کرتے ہیں۔یہ ایک ظاہری کمک کی صورت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جلو میں رہنے لگے جو پہلے صفاتی طور پر بھی فانی تھے۔مگر اس کے بعد وہ صفاتی طور پر لافانی ہوگئے کیونکہ سلسلہ عالیہ احمد یہ قیامت تک زندہ رہے گا قو میں اور نسلیں اس سر چشمہ حیات سے سیراب ہوتی رہیں گی۔اور اصحاب احمد کا ذکر خیر بھی جاری وساری رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ساتھ اصحاب احمد بھی چلتے پھرتے نظر آئیں گے۔حضرت خلیفتہ اسیح " اول کے بڑے صاحبزادے مولوی عبدالحی صاحب مرحوم کی شادی حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کی بڑی صاحبزادی سے ہوئی تھی۔محترم شاہ صاحب اس وقت حضرت مرزا غلام اللہ صاحب مرحوم کے مکان کے پاس مقیم تھے۔یہ گھر سکھوں کے گوردوارہ اور پرتاپ سنگھ کے گھر کے درمیان واقع تھا۔جو آج بھی تبدیل شدہ صورت میں موجود ہے۔شادی کی تقریب کے روز میں بھی اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کے ساتھ حضرت شاہ صاحب کے گھر گیا ہوا تھا۔ہماری طرح اور بچے بھی اپنی ماؤں اور بہنوں کے ساتھ گئے ہوئے تھے اس وقت قادیان کے گھروں کی طرز تعمیر بالکل معمولی اور دیہاتی تھی۔مردوں کے لئے عام مکانوں میں الگ دیوان خانے نہ ہوتے تھے۔چنانچہ شادی کے روز عورتوں کا ہی ہجوم ہوتا تھا۔حضرت شاہ صاحب کے گھر پر حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیدات اور اسی طرح دیگر احمدی مستورات سے ایک چہل پہل اور ہجوم تھا۔اور ہم اس وقت بوجہ طفولیت کی عمر کے مستورات میں آجا سکتے تھے۔مولوی عبدالحی صاحب مرحوم دولہا بن کر آئے اور عورتوں نے اپنے طریق کے مطابق دولہا کو اندر طلب کیا تو شاہ صاحب اس وقت باہر کھڑے تھے ڈولی دروازے پر رکھی ہوئی تھی۔اور چند بچے اس کے گرد جمع تھے۔میں بھی وہاں موجود تھا۔وہاں پر محلے کے کچھ غیر احمدی اور سکھ بچے بھی تھے۔کسی بات پر ایک سکھ لڑ کے نے ایک اور احمدی بچے کو گالی دیدی۔احمدی بچے نے بھی وہی الفاظ دہرادئے۔حضرت مولوی سرورشاہ صاحب نے سن لیا۔اور پوچھا کہ بچے تم کس کے بیٹے ہو؟ مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا۔پھر مجھ سے پوچھا کہ یہ کس کا بچہ ہے۔میں نے بتا دیا تو آپ نے فرمایا کہ بیٹا ! تم احمدی باپ کے بیٹے ہو گالی دے رہے ہو یہ اچھی بات نہیں تو بہ کرو۔وہ کچھ سہم سا گیا تھا۔اس نے کہا کہ اس نے پہلے مجھے گالی دی تھی۔آپ نے فرمایا ہم احمدی ہیں تم ابھی بچے ہو تمہیں معلوم نہیں کہ لوگ ہمیں کس قدر گالیاں دیتے ہیں ہم صبر کرتے ہیں تم بھی صبر کرو۔یہ بات بظاہر تو بہت معمولی سی تھی۔مگر ذرا غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ حضرت شاہ صاحب نے کس