اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 355 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 355

پکڑے لے آئے۔اور دیگر احباب کی موجودگی میں میری بیعت لی۔الحمد اللہ کئی واقف کاروں نے کہا کہ یہ کیا ؟ آپ آج تک احمدی نہ تھے۔یہ بیعت کیسی ؟ وغیرہ۔حضور نے تین دن ٹھہرنے کا ارشاد فرمایا۔ان دنوں حضرت مولوی سرور شاہ صاحب بھی وہاں ہی تھے۔تیسرے روز روانگی سے پہلے اجازت مانگنے گیا۔حضور نے فرمایا کہ آپ کے علاقہ کشمیر کے ایک نوجوان شیخ حمید اللہ صاحب ساکن لولاب نے اس ہفتہ بیعت کی ہے وہ قادیان گئے ہیں ان کو بھی کشمیر کے لئے مبلغ تیار کرنا ہے۔آپ کا ہموطن ہے۔آپ جلدی جلدی اس کی سلسلہ سے واقفیت بڑھائیں اور اپنے ساتھ رکھیں۔چنانچہ قادیان کے لئے میں روانہ ہوا۔راستے میں مجھے شدید بھوک لگی۔حالانکہ فاقہ رہنے کی ٹریننگ بھی لے چکا تھا۔ایک ہوٹل پر اترا۔ہوٹل والے نے پر تکلف کھانا پیش کیا۔میں نے سمجھا کہ اتنی قیمت میرے پاس کہاں ہوگی مگر بھوک نے سوچنے نہ دیا۔جب بعد ازاں بل ادا کرنے لگا تو اس نے کہا قیمت آپ کی آچکی ہے۔میں نے کہا یہ کیسے؟ اس نے کہا یہ مسئلہ نہیں ہے۔آپ کی روٹی کے پیسے مجھے مل گئے ہیں۔تیسری بار میں نے کہا غلطی تو نہیں آپ مجھے جانتے بھی نہیں تو پھر قیمت کیسے مل گئی ؟ اس نے اس انداز سے جواب دیا کہ مجھے خاموش کرا دیا۔کہا۔میں تمہیں کیا تمہارے باپ کو بھی جانتا ہوں۔اور بہت خوب جانتا ہوں۔آگے چلو یہ کہہ کر مجھے دنگ کر دیا۔آج تک معلوم نہ ہو سکا۔یہ کون تھا نہ میرے والد کبھی اس طرف آئے تھے۔حضرت مولوی عبد الغنی خان صاحب ناظر دعوت وتبلیغ نے شیخ حمید اللہ صاحب کے متعلق حضور کی تحریر کی تعمیل کی اور پھر انہیں ابتداء ۱۹۴۷ء میں لولاب بھجوا دیا اور خاکسار کے لئے یہ احکامات صادر ہوئے کہ میں آدھا دن حضرت سید سرور شاہ صاحب سے پڑھا کروں اور کچھ وقت ایک اور استاد سے پڑھنے کا حکم تھا۔لیکن وہ صاحب بصد مشکل چند منٹ ہی دینے پر رضا مند تھے۔اس لئے کہ وہ کہتے تھے میرے پاس وقت نہیں۔بعد نماز ظہر میں حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کے گھر پر جاتا کیونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ آپ کو میں اتنا وقت دے دیتا ہوں جتنا آپ کو ضرورت ہے اس لئے کہ آپ میرے ہموطن اور ہم ضلع ہیں وہاں سے بہت کم لوگ احمدی ہوئے ہیں۔آپ تعلیم کے دوران میں اپنی تعلیم کے حصول کے واقعات اور خدا تعالیٰ کی قدرت کے نشانات بیان فرماتے۔بہائیت کے متعلق آخر پر یہی فرمایا کرتے کہ بہائیت کوئی علمی مذہب نہیں صرف بزرگوں اور نیوں اور کلام پاک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منہ چڑایا ہے۔اس انداز سے فرماتے تھے کہ خود بھی ہنستے اور مجھے بھی ہنساتے اور خوب ہنتے۔اللهم اغفر له۔آپ کو پا کر میری وہ بھوک پیاس بھی ختم ہوگئی کہ میں نے کسی نبی کو نہ دیکھا اور نہ کسی ولی کو بلکہ اب میرے