اصحاب احمد (جلد 5) — Page 332
۳۳۶ ہے اور جو باطل پرست مخلوق کی نظروں سے پوشیدہ اور نہاں ہے انہوں نے اپنی آنکھ سے ہاں آنکھ سے دیکھ لیا ہے۔ورنہ بتاؤ تو سہی کہ وہ کیا بات تھی جس نے ان کو ذرا بھی پرواہ نہیں ہونے دی کہ قوم چھوڑی ، ملک چھوڑا، جائداد میں چھوڑیں۔احباب اور رشتہ داروں سے قطع تعلق کیا۔وہ صرف خدا ہی پر بھروسہ تھا اور ایک خدا پر بھروسہ کر کے انہوں نے وہ کر کے دکھایا کہ اگر تاریخ کی ورق گردانی کریں تو انسان حیرت اور تعجب سے بھر جاتا ہے۔ایمان تھا اور صرف ایمان تھا اور کچھ نہ تھا۔ورنہ بالمقابل دنیا داروں کے منصوبے اور تدبیریں اور پوری کوششیں اور سرگرمیاں تھیں وہ کامیاب نہ ہو سکے، ان کی تعداد، جماعت ، دولت سب کچھ زیادہ تھا۔مگر ایمان نہ تھا اور صرف ایمان ہی کے نہ ہونے کی وجوہ سے وہ ہلاک ہوئے اور کامیابی کی صورت نہ دیکھ سکے۔مگر صحابہؓ نے ایمانی قوت سے سب کو جیت لیا۔انہوں نے جب ایک شخص کی آواز سنی جس نے با وصفیکہ اُمی ہونے کی حالت میں پرورش پائی تھی۔مگر اپنے صدق اور امانت اور راستبازی میں شہرت یافتہ تھا جب اس نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں یہ سنتے ہی ساتھ ہو گئے اور پھر دیوانوں کی طرح اس کے پیچھے چلے۔میں پھر کہتا ہوں کہ وہ صرف ایک ہی بات تھی جس نے ان کی یہ حالت بنا دی اور وہ ایمان تھا۔یا درکھو خدا تعالیٰ پر ایمان بڑی چیز ہے۔“ ۲۸۴