اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 331 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 331

۳۳۵ محنت اور کوشش کا نتیجہ ہے کہ اب ہمارے چندہ عام سے چندہ وصیت زیادہ ہے۔یہ کام ہمیشہ کے لئے آپ کی یادگار رہے گا۔مجھے افسوس ہے کہ مولوی صاحب کے بچوں میں سے کسی نے علم دین میں وہ مقام حاصل نہیں کیا جو انہیں حاصل تھا۔اسی طرح تعلیم میں بھی وہ مولوی صاحب کے مقام کو حاصل نہیں کر سکے لیکن اگر انسان کو کسی چیز کے حاصل کرنے کا فکر لاحق ہو جائے تو اس کے لئے مواقع ہر وقت میسر آ سکتے ہیں۔یورپ کے ایک ستر سالہ بوڑھے نے لاطینی زبان سیکھی اور اسکے بعد اس نے کتا ہیں لکھیں۔اسی طرح اگر مولوی صاحب کی اولاد میں احساس پیدا ہو جائے تو وہ ہر وقت ان علوم کو حاصل کر سکتے ہیں۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ وہ علوم کی طرف توجہ کریں۔بہر حال مولوی صاحب کی وفات سے جماعت کا ایک بہت بڑا نقصان ہوا ہے اور ان کی اولاد کا تو دو ہر انقصان ہے۔بلحاظ اولاد ہونے کے بھی اور بلحاظ احمدی ہونے کے بھی۔ان کو دوہرا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔مولوی صاحب با وجود ۸۴ سال عمر پانے کے آخری دم تک کام کرتے رہے۔(الفضل میں ایک مضمون چھپا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی عمر ۹۲ سال کی تھی ورنہ عام طور پر لوگ پچاس ساٹھ سال کی عمر میں ہی ناکارہ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ایسے انسان شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔جو اس عمر تک کام کرتے ہیں۔ورنہ بالعموم لوگ پچاس ساٹھ سال کی عمر میں ہی کام کاج چھوڑ دیتے ہیں اور بہت سے لوگ تو مولوی صاحب کی عمر کو پہنچتے ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولوی صاحب کے مدارج بلند کرے اور ان کے شاگردوں میں سے جو علماء اس وقت کام کر رہے ہیں ان کو توفیق دے کہ وہ ان کی علمی بنیادوں (کو) اور زیادہ بلند کرنے والے ہوں۔ہماری جماعت میں اگر بلند پایہ کے علماء ہوں تبھی ہماری جماعت باقی دنیا پر غالب آ سکتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ کسی مجلس میں ہمارا سر نیچا نہ ہونے دے اور ہمارے علماء کے علمی اور عملی پایہ کو بلند کرے اور دنیا پر ان کو غالب کرے۔اگر علم کی بنیاد کمزور ہو جائیں تو عمل کی بنیادیں بھی کمزور ہو جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہماری ضرورتوں کو پورا فرما تا رہے اور علمی اور عملی میدان میں ہر لمحہ ہمارا قدم آگے کی طرف بڑھائے۔کیونکہ علم و عمل کے بغیر روحانی اور اقتصادی ترقیات حاصل نہیں ہو سکتیں۔‘‘ ۲۸۳ شان صحابه حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔میں پھر صحابہ کی حالت کو نظیر کے طور پر پیش کر کے کہتا ہوں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اپنی عملی حالت میں دکھایا کہ وہ خدا جو غیب الغیب ہستی