اصحاب احمد (جلد 5) — Page 330
۳۳۴ ایسے عالم کی زندگی نوجوان علماء کے لئے بہت ہی کار آمد تھی۔نو جوان علماء کی وہ نگرانی کرتے تھے اور نو جوان علماء ان سے اپنی ضرورت کے مطابق مسائل پوچھ لیتے تھے۔مجھے کئی سال سے یہ فکر تھا کہ جماعت کے پرانے علما ءاب ختم ہوتے جارہے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ ایک دم جماعت کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑے اور جماعت کا علمی معیار قائم نہ رہ سکے۔چنانچہ اس کے لئے میں نے آج سے تین چار سال قبل نئے علماء کی تیاری کی کوشش شروع کر دی تھی۔کچھ نو جوان تو میں نے مولوی صاحب سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے مولوی صاحب کے ساتھ لگا دیئے اور کچھ نو جوان باہر بھجوا دیئے تا کہ وہ دیو بند وغیرہ کے علماء سے ظاہری علوم سیکھ آئیں۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت کی بات ہے کہ ان علماء کو واپس آئے صرف ایک ہفتہ ہوا ہے جب وہ واپس آگئے تو مولوی صاحب فوت ہو گئے۔گویا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس وقت تک وفات نہیں دی جب تک کہ علم حاصل کر کے ہمارے علماء واپس نہیں آگئے۔اتنی دیر تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو زندہ رکھا تا کہ ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کی تائید و نصرت کرتا ہے اور خود اس کا قائم کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس دن تک ہماری جماعت کے ایک چوٹی کے عالم کو فوت نہیں ہونے دیا جب تک کہ نئے علماء کی بنیاد نہیں رکھی گئی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ نو جوان ابھی اس مرتبہ کو نہیں پہنچے لیکن وہ جوں جوں علمی میدان میں قدم رکھیں گے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے اتنا ہی وہ ان علماء کے قائم مقام ہوتے جائیں گے۔مولوی صاحب جب کالج سے فارغ ہو کر آئے تھے اس وقت ان کی اور حالت تھی اور جب انہوں نے یہاں آکر لمبی لمبی دعائیں کیں اور روحانیت سے اپنا حصہ لیا تو وہ بالکل بدل گئے اور ایک نیا وجود بن گئے۔اسی طرح ہمارے نو جوانوں کو علم تو حاصل ہو گیا ہے مگر اب وہ جتنا جتنا روحانیت کے میدان میں بڑھیں گے اور اپنے تقویٰ اور نیکی کو ترقی دیں گے اتنا ہی وہ بلند مقام کی طرف پرواز کریں گے۔جہاں تک کام کرنے کا تعلق ہے مولوی صاحب میں کام کرنے کی انتہائی خواہش تھی لیکن تنظیم کے معاملہ میں وہ زیادہ کامیاب نہ تھے۔ایک کام ہے جو ان کے سپرد ہوا اور انہوں نے اس میں کمال کر دیا اور وہ کام ان کی ہمیشہ یادگار رہے گا۔جس طرح لنگر خانہ اور دارالشیوخ میر محمد الحق صاحب کے ممنون احسان ہیں اسی طرح وصیت کا انتظام مولوی سید سرور شاہ صاحب کا ممنونِ احسان ہے مولوی صاحب نے جس وقت وصیت کا کام سنبھالا ہے اس وقت بمشکل وصیت کی آمد پچاس ساٹھ ہزار تھی۔مگر مولوی صاحب نے اس کام کو ایسے احسن طریق پر ترقی دی کہ اب وصیت کی آمد پانچ لاکھ روپیہ سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔آپ کو وصیت کے کام میں اس قدر شغف تھا کہ آپ بہت جوش و خروش کے ساتھ اس کام کو سر انجام دیتے تھے کیونکہ نظام وصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قائم کردہ ہے اور آپ نہیں چاہتے تھے کہ اس میں کوئی کمزوری واقع ہو جائے۔یہ آپ ہی کی