اصحاب احمد (جلد 5) — Page 320
۳۲۴ حضرت عیسی کے متعلق جو قرآنی آیت آتی ہے کہ فاضربوه ببعضها اس کی حضرت مولوی صاحب یہی تفسیر فرمایا کرتے تھے کہ اس میں حضرت عیسی کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں صلیب پر چڑھا کر مقتول کی طرح کر دیا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ واقعہ کی تفصیلات پر غور کرو تو حقیقت کھل جائے گی۔حضرت خلیفہ ثانی نے اس تفصیل سے اختلاف کیا مگر بعد میں اس سے متفق ہو گئے۔مرزا بشیر احمد حضرت خلیفہ ثانی کی نظر میں ا ایک گوٹھ مولوی صاحب کے نام پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اراضی سندھ کے معائنہ کے ایام میں ”کریم نگر کی ایک گوٹھ کا نام سرور آباد تجویز فرمایا ۲۷۹ ۲- ایک تصنیف میں ذکر مولوی محمد علی صاحب کی تصنیف Split کا جواب دیتے ہوئے سید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں :- میں اس امر کے تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہیں کہ مولوی سید محمد احسن صاحب جماعت کے سب سے بڑے عالم آدمی ہیں۔علم کا اس رنگ میں فیصلہ کرنا ہر شخص کے لئے آسان نہیں۔میرے نزدیک مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور قاضی سید امیر حسین صاحب کسی صورت میں مولوی سید محمد احسن صاحب سے کم نہیں ہیں۔‘ ۲۸۰ -- ایک خطبہ میں آپ کا ذکر حضور نے ایک مبسوط خطبہ میں بیان فرمایا کہ ” ہماری جماعت کے پرانی طرز کے علماء میں سے صرف مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب باقی رہ گئے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے ماتحت مجھے یہ بات بھی سمجھا دی ہے کہ تحریک جدید کے ماتحت علماء کی تیاری کا خطوط وحدانی کے الفاظ خاکسار مؤلف کی طرف سے ہیں۔