اصحاب احمد (جلد 5) — Page 315
۳۱۹ -110 -110 -117 محاسنهم فلا تنسى بذكر لنافيهـا النَّصيحة والشفاء ان کے محاسن بھلائے نہیں جا سکتے اور ہم ان کا ذکر کر کے اپنی بھلائی اور شفا چاہتے ہیں۔وذكر الخير للأخيار يبقى وابقى الأنقِيَاءَ الإِتِقَاء چیدہ لوگوں کا ذکر خیر باقی رہتا ہے اور تقویٰ متقیوں کے باقی رہنے کا سبب ہے۔ونـد عـوا الله يرحمهم جميعاً ويكرمهم كما يُرجى العطاء ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان تمام پر اپنا فضل کرے اور ان کو معزز بنائے جیسے کہ اس کی عطاء سے امید کی جاتی ہے۔-112 غَنِيٌّ يُغْنِيَنُ بِفَيْضِ غَيْبٍ هُوَ المولى وسائله الوراء وہ ذات غنی ہے جو اپنے فیضانِ غیبی کے ساتھ لوگوں کو غنی کر دیتی ہے وہ حقیقی مولیٰ ہے باقی مخلوق اس کی محتاج ہے۔-۱۱۸ انا الـقـدســى مـن تقـديــس رَبّي وارجو منه لى نعم الرجاء میں غلام رسول عرف قدسی اپنے رب کی تقدیس سے قدسی ہوں اور اللہ تعالیٰ سے بہترین امید کا طلب گار ہوں۔-119 وأسأل كلَّ ما يُعطى بفضل جميع المنعمين فلى الطاء اور میں اللہ سے سوال کرتا ہوں جو ہر ایک کو اپنے فضل سے عطا کرتا ہے اور تمام تضمین او منعمین اور محسنین پر عطائیں کرتا ہوں۔-۱۲۰ - ۱۲۱ امد يدى بين يديه سُولًا ومن باب الـكـريـم فلى ارتجاء میں اس کے سامنے اپنے سوال کے ہاتھ پھیلاتا ہوں اور اسی کریم خدا کے دروازے پر امید لے کر کھڑا ہوں۔و ان الله ذو فضل عظيم فيعطى من يشاء وما يشاء بے شک اللہ بڑے فضلِ عظیم کا مالک ہے جس کو جو چاہتا ہے دیتا ہے۔وهـذا الـنـظـم مـن مثلى عجيب اطـال الــنـظـم حـزنـي والرثاء ی نظم میرے جیسے سے ایک عجیب نادر الوقوع ہے نظم کو میرے غم اور مرثیہ نے لمبا کر دیا۔فلاتنظر الى زحف و قدح فَإِنَّ الـنـظـم دمـعـى والـدمــاء اے پڑھنے والے تو اس کے شعروں کی کمزوری اور اس کے عیب کو نہ دیکھ۔یہ نظم میرے آنسوؤں اور آہوں کے خون کا مجموعہ ہے۔-١٢٢ -١٢٣