اصحاب احمد (جلد 5) — Page 313
۳۱۷ -۹۴ -۹۵ -۹۶ اتِمَّت حجة ببلاغ حق على الاقوام ما وجب الاحاء تبلیغ حق کے ذریعہ تمام اقوام پر حجت قائم کر دی گئی ہے اور اس کے واجب حق کو ادا کیا گیا ہے۔بشارات لِحَقِّ المؤمنينا بقهر الله عُذب اشقياء مومنوں کو بشارات دی گئی ہیں اور بدبختوں کو خدا کے قہر اور عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔وان المجرمين بَغَوا بكفر فاهلكهم وافـنـاهـم إبـاء مجرم اپنے کفر کے ذریعہ بغاوت کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کے اس انکار میں ان کی ہلاکت اور تباہی رکھی ہے۔-92 -۹۸ الا ان النوازل والصواكم لتنزل بعد ماتم الدعاء حوادثات زمانہ دعائے کامل کے میدان مجرموں پر نازل ہوتے رہتے ہیں۔بدافی دور سید نالحشر كيوم الفصل حل له القضاء ہمارے حضرت امیر المؤمنین کے دور میں ایک حشر برپا ہے گویا فیصلہ کا دن آ گیا ہے اور قضا واجب ہوگئی ہے۔-1++ جلال الله جل بـمـا تـجـلـى بجلوته لقد ضَاء الفضاء اللہ تعالیٰ کا جلال پوری تجلی سے ظاہر ہوا جس سے فضائے آسمانی بھر گئی۔لارض الله اشراق بــــــور فهل للشمس رَيب و اختفاء اللہ کی زمین نور سے چمک اٹھی ہے کیا اس کے بعد بھی سورج کے دیکھنے میں کوئی شک اور پوشیدگی رہ سکتی ہے۔- 1+1 -١٠٢ وللدنيا جمال الوجه اجلى ووجه الله ظاهر ولا خفاء دنیا کا جمال کا چہرہ خوب روشن ہے اور خدا کی ذات دلائل کے ساتھ ایسی ظاہر ہے کہ اس میں کوئی خفا نہیں۔كان الله نزل من سماء من الغبراء قد تربت سماء اس لئے کہ اللہ نے پہلے فرمایا تھا کان الله نزل من السماء اور اب یوں سمجھو کہ آسمان زمین کے قریب آچکا ہے۔جزى الله الخليفة حِبّ رَبِّي بقدر جهاده نعم الجزاء اللہ تعالیٰ موعود خلیفہ کو جو محبوب خدا ہے اس کی کوشش کے اندازے پر بہترین جزا د یوے۔-١٠٣