اصحاب احمد (جلد 5) — Page 288
۲۹۲ (۳) آپ رقم فرماتے ہیں :- آپ نے۔۔۔۔کے ایک خواب کا ذکر کیا ہے جسے شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے کچھ عرصہ ہوا قادیان میں بورڈ پر لکھ کر چسپاں کیا تھا۔وہ خواب محض نفسانی خیالات پر مشتمل ہے اور ہرگز رحمانی نہیں۔جس کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ خواب دیکھنے والا یا خواب بنانے والا کہتا ہے کہ خاکسار محمد سرور شاہ اور چوہدری فتح محمد صاحب کے خیالات اور پراگندہ ہیں حالانکہ یہ سراسر خلاف واقع ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مصری صاحب کے فتنہ نے ہمارے عقائد کو پریشان کرنے کی بجائے اور بھی مضبوط کر دیا ہے اس لئے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ سیدنا امیر المؤمنین حضرت خلیفہ اسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے بارے میں اپنا اعتقاد اس خدا کی حلف کے ساتھ شائع کر دوں جو کہ سارے جہانوں کا خالق اور مالک ہے اور جس کے نام کی جھوٹی قسم کھانا لعنتوں کا کام ہے اور جس نے حق و باطل میں امتیاز کرنے کے لئے اپنے نام کی قسم کو ذریعہ قرار دیا ہے۔والله باللہ ثم اللہ میرا یہ اعتقاد ہے کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ان تمام نا پاک الزاموں سے بری ہیں جو مستریوں یا مصری پارٹی نے آپ کی ذات کی طرف منسوب کئے۔میں حضرت امیر المؤمنین مرزا بشیر الدین صاحب کو نہایت مقدس اور پاکباز انسان یقین کرتا ہوں۔وہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ خلیفہء برحق ہیں اور آیت استخلاف کے ماتحت برگزیدہ خلیفہ ہیں۔میں اپنے اس اعتقاد پر پھر ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ کو جو عالم الغیب والشہادہ ہے گواہ ٹھہراتا ہوں۔والله على ما اقول شھید۔“ * 66 (۴) حضرت مولوی نعمت اللہ صاحب افغانستان میں شہید کئے جانے پر بعض احباب نے بشمول حضرت مولوی صاحب سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں لندن ایک عریضہ ارسال کیا کہ اس واقعہء شہادت سے جماعت احمدیہ میں خوف و ہراس پیدا نہیں ہوا بلکہ اس نے اس خونخوار سرزمین میں حضرت اقدس کا نام بلند کرنے کے لئے جوش اور ولولہ بھر دیا ہے۔ہم اس واقعہ سے متاثر ہو کر فوراً اس علاقہ میں جانے کے لئے اپنے تئیں پیش کرتے ہیں۔۷۰ مرض الموت آپ کو کوئی مرض لاحق نہیں ہوا۔البتہ پیرانہ سالی کے باعث آپ کو ضعف و نقاہت تھی۔الفضل سے پہلی الفضل ۱۶ جنوری ۱۹۳۸ء۔اس پر چہ میں تاریخ تر قم ۱۲ راکتو بر درج ہے۔جو دراصل ۳۸-۰۱-۱۲ ہے۔جیسا کہ اس تحریر سے قبل کی عبارت اور بعد کی تحریر حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی ثابت کرتی ہے۔