اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 287 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 287

۲۹۱ حضرت مولوی صاحب جیسے بزرگ کی مسرت و شادمانی کا اندازہ لگا نا سہل امر نہیں کہ ان کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے استاد ہونے کا شرف حاصل تھا نیز آپ نے خلافت اولی اور خلافت ثانیہ میں قیام و استحکام خلافت میں کا رہائے نمایاں سرانجام دیئے تھے۔۲۶۷ احمدیت اور اس کی خلافت سے جیسی شدید قلبی وابستگی آپ کو تھی وہ تو ظاہر وباہر ہے۔پھر بھی بعض حوالے یہاں درج کئے جاتے ہیں تا کہ قارئین کرام اس جذ بہ کی گہرائی کا قدرے اندازہ کر سکیں۔(۱) بشمول آپ کے چھپیں احباب کی طرف سے مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری کو دعوت مباہلہ دی گئی۔۲۶۸ (۲) ایک معترض کے جواب میں مضمون میں لکھتے ہیں :- بالآخر میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں اور خدا خوب جانتا ہے کہ دردِ دل سے اور علی البصيرة کرتا ہوں۔ہم لوگ نادان نہیں، خود غرض نہیں، فریب اور فریبی کے ہر گز محتاج نہیں اور پھر اپنی عزت اور دوستوں ، رشتوں اور خصوصاً اپنے ایمانوں کے ہرگز ہرگز دشمن نہیں اور نہ ہم لوگوں نے اپنے وطنوں اور روزگاروں سے بڑھ کر یہاں پر کسی سکہ کو دیکھا تھا اور نہ ہم نے دھوکا کھایا ہے۔قرآن و حدیث سے خوب واقف ہیں۔زمانہ کی حالت کو خوب جانتے ہیں اور خدا کے فضل سے پھر مردم شناس اور عاقبت اندیش ہیں۔واللہ اللہ ثم اللہ کہ پھر ہم نے بڑا تجربہ کیا اور سالہا سال کیا۔پھر مرزا صاحب کو کتاب اللہ ، سنت اللہ ، سنت الانبیاء اور احادیث نبویہ کے مطابق ہم نے راستباز ، خدا کا فرستاده ، خدا کا مسیح" اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فدائی غلام اور آپ کے دین کا سچا عاشق اور وفادار خادم پایا۔۲۶۹ بقیہ حاشیہ:- جلسہ دہلی کے موقع پر خواتین والے حصہ کی بیرونی قناتوں پر میں پہرہ کے لئے متعین تھا۔اس جلسہ میں اسلام کے علمبرداروں“ نے ” اسلامی تہذیب کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواتین والے حصہ پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے داماد میاں عبدالرحیم احمد صاحب مخالفین کے پتھراؤ سے شدید بیمار ہو گئے تھے اور باری باری تیمار داری جن کے سپرد تھی ان میں سے خاکسار بھی شامل تھا۔ہمیں تیمار داری کی خاطر قادیان آنے سے روک لیا گیا تھا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ خاکسار کی ڈیوٹی کے وقت جو اوائل شب میں تھی ان کو دیکھنے بھی آئے تھے اور ہم تیماردار بھی حضور کے مراجعت فرما ہونے پر ساتھ ہی قادیان واپس آئے تھے۔راستہ میں ایک جگہ حضور کے چھوٹے صاحبزادگان کے متعلق جو تیسرے درجہ میں ہمارے ساتھ تھے حضور کی خدمت میں ایک اطلاع دینے گیا واپسی پر ایک اور ریل گاڑی کے نیچے آنے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بچالیا۔مجھے اس کے آنے کا علم نہیں تھا۔میں اطلاع دے کر دوسری پڑی پر چلتا ہوا واپس دوڑا آرہا تھا ایک لمحہ قبل ہی پٹڑی سے الگ ہوا تھا۔فالحمد اللہ علی ذالک۔