اصحاب احمد (جلد 5) — Page 274
۲۷۸ یقین نہیں کر سکتا کہ وہ اس سے انکار کرین۔محمد سرور شاہ احمدی نقل خود ۱۴ فروری ۶۱۹۱۵ - ۲۵۵ (۴) خواجہ کمال الدین صاحب کے رسالہ اندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب‘ کے جواب میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے رسالہ القول الفصل“ میں اس اعتراض کا بھی جواب دیا ہے کہ گویا حضرت خلیفہ اول کے نزدیک خود حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بھی مسئلہ کفر کو نہیں سمجھ سکے تھے۔حضور نے حضرت مولوی سرور شاہ صاحب ، حضرت مولوی شیر علی صاحب ، حضرت نواب محمد علی خان صاحب وغیرہ چار احباب کی شہادت پیش کی ہے کہ حضرت خلیفہ اول نے کچھ اور فرمایا تھا نہ کہ وہ بات جو خواجہ صاحب نے بیان کی ہے۔(ص ۴۵) لسانی قلمی تائید خلافت محترم بھائی عبد الرحمن صاحب مقادیانی تحریر کرتے ہیں:۔حضرت مولانا مولوی محمد سرور شاہ صاحب خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ وسلامت ہیں۔ان کے علم وفضل اور نیکی و تقویٰ اور بزرگی و پاکبازی میں کسی کو کلام نہیں۔ان کو اللہ تعالیٰ نے اس بات کی عزت اور جائز شرف بخشا ہے کہ جہاں وہ سیدنا حضرت محمود اید اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استاد اور علوم ظاہری کے معلم ہیں وہاں امیر قوم جناب مولانا مولوی محمد علی صاحب کو بھی پڑھاتے ، سکھاتے اور درس دیتے رہے ہیں۔نہ صرف یہی بلکہ ان کے تو اتنے گہرے رفیق ، راز دار ورازداں رہے ہیں کہ ان کی مجالس کی رونق ہوتے۔ان کے خیالات سے واقف اور نہاں در نہاں منصوبوں سے بھی آگاہ رہتے تھے۔‘ ۲۵۶ 66 آپ ان لوگوں کے اسرار سے بخوبی واقف تھے لیکن ان سے کبھی بھی متفق نہیں ہوئے تھے اور اس واقفیت کے باعث آپ اہلیت نامہ رکھتے تھے کہ علی بصیرۃ ان کے سربستہ راز افشاء کریں۔آپ نے فتویٰ ہائے مصری و غیر مبایعین کی تردید میں نہایت قابل قدر سانی و قلمی خدمات سرانجام دی ہیں۔ان کے مطالعہ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ میدان کا رزار میں ایک بطل جلیل پے بہ پے نعرہ ہائے ھل من مبارز بلند کر رہا ہے لیکن اس کی باطل شکن اور حق پرست با نگ بلند سے اعداء کے ارسان خطا اور دل دہل رہے ہیں اور کسی کو مقابلہ پر آنے کی تاب و تواں کہاں۔آپ کے مضامین نقلی و عقلی دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ سے بھر پور ہیں۔علم کا ایک بحر ذخارنظر آتا ہے۔آپ کی بعض ایسی خدمات کا یہاں ذکر کرنا مناسب ہے :۔(۱) جلسہ سالانہ ۱۹۱۶ء پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے تبلیغی سفروں کے حالات میں بیان کیا کہ مجھے