اصحاب احمد (جلد 5) — Page 241
۲۴۵ سہ ماہی بطور ضمیمہ ریویو آف ریلیجنز شائع ہوتی ہے۔آج کے اخبار میں پھر اس کے متعلق تحریک کی جاتی ہے کہ اے تشنہ کا مانِ آب حیات قرآن دوڑو! اور جلد اپنے تئیں سیراب کرو۔مجھے رہ رہ کر تعجب آتا ہے کہ احمدی جو قرآنی معارف سننے کے لئے ہر وقت بے تاب رہتے ہیں۔اس تفسیر کے ساتھ کیوں دلچسپی نہیں دکھاتے زیادہ تر اس کی وجہ سے ہے کہ کئی حضرات اس کے شائع ہونے سے اب تک بے خبر ہیں۔میں بڑے زور کے ساتھ اپنے ہر ایک بھائی اور بدر کے خریدار کی خدمت میں درخواست کرتا ہوں کہ وہ ضروری ضمیمہ ریویو اپنے نام جاری کرائے تا اسے معلوم ہو کہ قرآنی مضامین کس قدر لطیف ہوتے ہیں۔میرے لئے تو (سچ کہتا ہوں اور تہ دل سے کہتا ہوں ) تمام جہانوں کی لذتوں سے بڑھ کر اگر کوئی لذت ہے تو اس تفسیر میں ہے۔واللہ زبان چٹخارے لے لے کر رہ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے لائق مفسر کو تو فیق دے کہ وہ اپنی زندگی میں اس تفسیر کو ختم کرسکیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر اس ضمیمہ کے آٹھ سوخریدار بھی مستقل طور پر ہو جائیں تو میں مینجر صاحب ریویو کو مجبور کر دوں کہ وہ بجائے سہ ماہی کے ماہوار اس کو علیحدہ نکالیں اور اس طرح پر پھر یہ تفسیر جلد شائع ہو سکے گی۔اس گذارش کی طرف احباب کی فوری و پُر جوش توجہ درکار ہے۔کیونکہ موجودہ صورت طبع تفسیر نے تو مفسر کا گلا گھونٹ دیا ہے اور یہ مجھے (بلکہ ) کسی صاحب ذوق سلیم کو پسند نہیں۔میں ایک دفعہ پھر اس تفسیر کی طرف ناظرین کو توجہ دلاتا ہوا رخصت ہوتا ہوں اور منتظر ہوں کہ میرے بھائی اس کے متعلق کیا کارروائی کرتے ہیں۔ہم مخدومی مولوی محمد علی صاحب کی خدمت مبارک میں بھی عرض کرنے کی جرات کرتے ہیں کہ وہ اس تفسیر کو عام ہاتھوں میں پہنچانے اور وسیع پیمانے پر زیادہ حجم کے ساتھ چھپوانے اور جلد شائع کروانے کی تدبیر کی طرف اپنے علمی اور قیمتی وقت کا کچھ حصہ خرچ کریں۔“ ۲۰۷ آپ مرکز قادیان میں کبھی قرآن شریف اور کبھی حدیث شریف کا درس دیتے تھے۔مؤ قر بدر میں مرقوم ہے:- حضرت خلیفہ المی" و دیگر بندگانِ ملت اپنے اپنے منصبی کام میں سرگرمی سے مصروف ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی روح القدس سے تائید کرے۔