اصحاب احمد (جلد 5) — Page 209
۲۱۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ محسوس کر کے کہ ہماری جماعت میں عربی علوم کے علماء کی کمی ہو رہی ہے مشورہ بقیہ حاشیہ:- سال تعدا د وطلباء-حوالہ کوائف (۱۹۳۶-۳۷ء) طلباء جامعہ۔۲۸ رپورٹ سالانہ بشرح صدر۔نیز جامعہ میں طب کی تعلیم کا انتظام کیا گیا۔جو ڈاکٹر محمد عبد اللہ صاحب حال مقیم کوئٹہ پڑھاتے ہیں اور یہ تعلیم تبلیغ میں مفید ثابت ہوگی۔ء انگریزی تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں۔ایک فارغ التحصیل نے طلباء ص۱۸۰ تا ۱۸۲) ایم۔اے میں کامیابی حاصل کی ہے۔( یہ خاکسار مؤلف اصحاب احمد کا ذکر بغیر نام کے کیا گیا ہے۔خاکسار ۱۹۳۶ء میں یو نیورسٹی میں اول آیا تھا اور جہاں تک خاکسار کو علم ہے مجھ سے پہلے مدرسہ احمدیہ یا جامعہ کے (۱۹۳۷-۳۸ء) صرف ایک طالب علم نے ایم۔اے کیا تھا۔افسوس کہ وہ غیر مبائعین میں شامل ہو گیا تھا۔) جملہ کوائف مطابق ۳۲-۱۹۳۱ء البته کمیشن داخله مبلغین کلاس پرنسپل طلباء جامعہ۔۲۹ صاحب۔قاضی محمد اسلم صاحب پروفیسر ، مولوی عبدالمغنی خان صاحب رپورٹ سالانہ مرحوم ناظر دعوة و تبلیغ وسید ولی اللہ شاہ صاحب ناظر دعوۃ و تبلیغ پر مشتمل تھا۔ص۱۷۳ تا ۱۷۵) کونسل جامعہ کے سیکرٹری مولوی محمد اسمعیل صاحب مرحوم فاضل تھے۔تبلیغ و مزا دلت تقاریر زیر اہتمام مولوی غلام احمد صاحب بدوملہوی ہوا۔مناظروں کی مزا دلت کا مزید ا ہتمام بھی کیا گیا۔(۳۹ - ۱۹۳۸ء) جملہ کوائف ( عمومی اعتبار سے ) حسب بالا۔طلباء جامعہ ۳۲ رپورٹ سالانہ ص۱۸۲ تا ۱۸۶) ضروری نوٹ: - مولوی فاضل و مبلغین کلاس میں تعداد طلباء کی کمی عدم حسن انتظام کے باعث نہ تھی۔انتظام اور سٹاف بہت معیاری تھا اور علم وفضل و تقویٰ ہر لحاظ سے ویسے معیاری بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام