اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 210 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 210

۲۱۴ کے بعد ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی۔خلافت اولی میں سلسلہ کے منتظمین دلی شغف سے اس مدرسہ کے حامی نہ تھے اور پہلے ہی سال ان کی طرف سے یہ معاملہ معرض بحث میں لایا گیا کہ قومی محاصل اس کے اخراجات کے متحمل بقیہ حاشیہ کی صحبت و برکت سے پیدا ہوئے تھے۔کمی کی وجہ یہ تھی کہ صدرانجمن بوجه مالی عدم استطاعت کے صرف دو تین طلباء کو ہر سال بطور مبلغ لیتی تھی۔باقی ماندہ اکثریت کو نہ تو سرکاری ملازمت ملتی تھی۔ٹرینگ بند ہو چکی تھی۔شاذ و نادر ہی کوئی غیر سرکاری یعنی کسی اسلامی تعلیمی ادارہ میں ملازمت ملتی تھی نہ ہی اکثر کو مزید تعلیم انگریزی وغیرہ کی توفیق ہوتی تھی۔اس طرح ان کو مستقبل بھیا نک نظر آتا تھا۔اس لئے کم تعداد میں مدرسہ احمد یہ وجامعہ احمدیہ کی طرح رجوع ہوتا تھا۔بعد میں حضور ایدہ اللہ تعالی کی سکیم تحریک جدید میں یہ سارے فارغ افراد جذب ہوتے گئے۔آپ کے جن شاگردوں کا مجھے علم ہو سکا وہ ذیل میں درج کرتا ہوں۔جن کے نام اس فہرست میں شامل نہ ہوں اطلاع ملنے پر طبع ثانی کے وقت شامل کر دیئے جائیں گے :- (۱) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی۔(۲ تا ۴) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب و حضرت مرزا شریف احمد صاحب پسران حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔(۵) حضرت میر محمد اسحاق صاحب ( ناظر ضیافت ) (۶) مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے۔امیر غیر مبایعین۔(۷) مولوی مبارک علی صاحب سیالکوئی۔(۸) حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب (سابق ناظر ضیافت و یکے از ۳۱۳ صحابه ) (۹) حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ناظر اعلی اوّل صدر انجمن احمدیہ پاکستان ( نبیرہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ) (۱۰) حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب ( ناظر امور عامه و خارجه و شارح بخاری شریف و سابق مجاہد شام ) (۱۱) حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب ( سابق ہیڈ ماسٹر مدرسہ تعلیم الاسلام ) (۱۲) حضرت سید عزیز اللہ شاہ صاحب (خسر سید نا مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی ) (۱۳) حضرت سید حبیب اللہ شاہ صاحب ڈپٹی انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات مغربی پنجاب۔(۱۴) حافظ عبید اللہ صاحب شہید مجاہد ماریشیس۔