اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 201 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 201

۲۰۵ گے کسی نے اپنے شوق سے پڑھ لیا تو پڑھ لیا ورنہ ان مدارس میں پڑھا یا نہیں جاتا۔غرض یہ مدارس تبلیغی نہ تھے بلکہ دنیوی کالج تھے جیسے گورنمنٹ کالج ، خالصہ کالج، ڈی۔اے۔وی کالج ہیں۔ان مدارس میں پڑھنے والوں کو ملازمتیں ملتی تھیں۔وہ دنیوی کاروبار میں اس تعلیم سے فائدہ اٹھاتے تھے۔وہ مدرسہ جو تبلیغ اسلام کی خاطر اور اشاعت اسلام کو مد نظر رکھ کر قائم کیا گیا اور جس کی غرض و لتكن منكم امة يدعون الی الخیر کی مصداق جماعت پیدا کرنا تھی وہ یہی مدرسہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم کیا اور جو ترقی کر کے اب جامعہ بن رہا ہے۔عربی مدارس میں بے شک حدیث پڑھائی جاتی تھی مگر اس لئے نہیں کہ ولتکن منكم امة يدعون الى الخير والی جماعت پیدا ہو۔بلکہ اسے ایک علم سمجھا جاتا اور اس لئے پڑھایا جاتا کہ اس سے مفتی اور قاضی بننے میں مددمل سکتی تھی اور نوکری مل جاتی تھی۔اسی طرح فقہ پڑھاتے مگر اس لئے نہیں کہ غیر مسلموں کو مسلمان بنا کر انہیں اسلامی امور سمجھا ئیں گے بلکہ اس لئے کہ مفتی اور قاضی نہ بن سکیں گے اگر یہ نہ پڑھیں گے۔یہ ایسی ہی تعلیم تھی جیسے آج کل لاء کالج کی ہے۔اس کی غرض یہ نہیں کہ قانون کے آگے تبلیغ کی جائے گی بلکہ یہ ہے کہ ملازمت حاصل ہو۔پس ولـتـكـن مـنـكـم امـة يدعون الى الخير ويأمرون بالمعروف کو مسلمانوں نے کئی سوسال سے بھلا رکھا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا سکول جاری کیا تھا اور آپ اس میں پڑھاتے رہے بعد میں چند صحابہ نے اسے جاری رکھا۔جب وہ قوم ختم ہوگئی تو وہ مدرسہ بھی ختم ہو گیا۔پھر یہ دنیوی علوم بن گئے یعنی محض دنیوی فوائد کے لئے پڑھے جانے لگے۔اشاعت اسلام ان کے پڑھنے کی غرض نہ رہی۔اب اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ فضیلت اور رتبہ دیا اور ہمیں اس پر فخر کرنا چاہیئے کہ تیرہ سو سال کے بعد ہمیں اس آیت پر عمل کرنے کی توفیق خدا تعالیٰ نے دی۔خدا تعالیٰ کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد اور ہدایت کے ماتحت مدرسہ احمدیہ قائم کیا گیا تا کہ اس میں ایسے لوگ تیار ہوں جو ولتكن منكم امة يدعون الی الخیر کے منشاء کو پورا کرنے والے لوگ ہوں بے شک اس مدرسہ سے نکلنے والے بعض نوکریاں بھی کرتے ہیں۔مگر