اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 200 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 200

۲۰۴ حامل سمجھے۔ایسی جماعت تیار کرنا بدعت نہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ ایک گمشدہ چیز ہے جسے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم کیا۔قرآن کریم میں صاف الفاظ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اور دوسری جگہ فرماتا ہے وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمُ إذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ * * کہ تمام کے تمام لوگ چونکہ مرکز میں نہیں پہنچ سکتے اس لئے چاہئے کہ وہ اپنے میں سے ایک جماعت اس کام کے لئے وقف کر دیں کہ جو دین سیکھے اور پھر جا کر دوسروں کو سکھائے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ یہ مدرسہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے قائم ہے اور قرآن نے قائم کیا ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر وسعت دی۔بے شک آپ سے پہلے عربی مدارس قائم تھے۔مگر وہ پرانے کالجوں کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں۔یہ ایسے ہی کالج تھے جیسے اس وقت گورنمنٹ کالج ہیں۔سو اگر موجودہ گورنمنٹ کی حالت گر جائے تو سو سال کے اندر اندر ان کالجوں کی وہی حالت ہو جائے گی جو عربی مدارس کی اب ہے۔جن عربی کالجوں کی یہ بگڑی ہوئی شکلیں ہمارے زمانہ میں موجود ہیں وہ اسی طرح کے کالج تھے جس طرح کے حکومت کے اس وقت ہیں۔یعنی دنیوی کا روبار کے لئے ان میں لوگوں کو تیار کیا جاتا تھا نہ کہ تبلیغ کے لئے تعلیم دی جاتی تھی۔وہی تعلیم اب تک چلی جارہی ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان مدارس میں سے نکلے ہوئے اکثر لوگ ایسے ہوں گے جو قرآن نہ جانتے ہوں گے۔ایسے مولوی یوں تو زمین و آسمان کے قلابے ملائیں گے لیکن جب ان کے سامنے کوئی آیت پیش کر کے کہا جائے گا کہ اس کا مطلب بتاؤ تو کہیں گے اس کے لئے تفسیر دیکھنی چاہیئے۔مطلب یہ کہ اس نے قران کریم پڑھا ہوا ہی نہ ہوگا اور قرآن کے معنی نہیں آتے ہوں حمد آل عمران: ۱۰۵ التوبة : ۱۲۳