اصحاب احمد (جلد 5) — Page 189
۱۹۳ اس حکیمانہ ارشاد سے یہی مراد ہے کہ نمازوں کی ادائیگی کے بعد بیشک مسجدوں سے باہر آؤ اور دین و دنیا کے کاموں میں حصہ لو اور حقوق اللہ کی طرح حقوق العباد میں بھی بہترین نمونہ بنو۔مگر تمہیں خدا کی عبادت میں ایسا شوق و ذوق حاصل ہونا چاہیئے کہ گویا مسجد سے باہر آنے کے بعد بھی تمہارا دل مسجد میں ہی لٹکار ہے اور تم اس انتظار میں رہو کہ کب پھر حتی الصلواۃ کی آواز آئے اور کب تم دوبارہ خدا کی عبادت کے لئے مسجد کی طرف لپکتے ہوئے پہنچو۔یہ وہی حقیقت ہے جسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان پیارے الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ بسا اوقات رسول پاک گھر میں ہمارے پاس بیٹھے ہوئے اس طرح پیار و محبت کی باتیں کرتے تھے کہ گویا آپ کی توجہ کا مرکز ہم ہی ہیں۔مگر جب اذان کی آواز آتی تھی تو آپ ہمیں چھوڑ کر اس طرح اُٹھ کھڑے ہوتے تھے کہ گویا آپ ہمیں جانتے ہی نہیں۔“ اسی حقیقت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض اوقات ان الفاظ میں بیان فرمایا کرتے تھے کہ :- وو دست با کار و دل بایار و یعنی ہاتھ تو کام میں لگا ہوا ہے۔مگر دل کی تمام توجہ دوست کی طرف ہے۔“ اس وقت یہ خاکسار مثال کے طور پر اپنے تین ایسے مرحوم دوستوں کا ذکر کرنا چاہتا ہے جو اس کیفیت کے حامل تھے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔میری مراد (۱) حضرت مولوی شیر علی صاحب مرحوم اور (۲) حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب مرحوم اور (۳) حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب مرحوم سے ہے۔یہ تینوں بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ممتاز صحابہ میں سے تھے اور انہیں خدا کے فضل سے وہ مقام نمایاں طور پر حاصل تھا جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ :- " قلبه مُعلّق بالمسجد " د یعنی مبارک ہے وہ انسان جس کا دل گویا ہر وقت مسجد میں لٹکا رہتا ہے۔“ بقیہ حاشیہ: - اس کے ایک ماہ بعد آپ انتقال فرماتے ہیں لیکن وفات سے دو تین دن قبل تک مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتے ہیں اور اس سے دو تین دن رُکنا بھی ان کا اختیاری امر نہ تھا۔وہ بیہوش ہو کر داخل شفاخانہ ہوئے اور وہیں واصل بحق ہوئے۔الفضل سور جون میں گذشتہ روز کے متعلق مرقوم ہے۔” شدید بیمار ہیں۔کل سے غشی طاری ہے آج شام تک کوئی افاقہ نہیں ہوا۔“ (زیر مدینہ اسی )