اصحاب احمد (جلد 5) — Page 166
۱۷۰ اولین ناظر تعلیم و تربیت کا نہایت اہم عہدہ تفویض فرمایا۔حضور نے اعلان میں فرمایا :- ضروریات سلسلہ کے پورا کرنے کے لئے قادیان اور بیرونجات کے احباب سے مشورہ کرنے کے بعد میں نے یہ انتظام کیا ہے کہ سلسلہ کے مختلف کاموں کے بقیہ حاشیہ : ۱۱ - ۱۹۱۹ء۔رکن مجلس معتمدین صدر انجمن احمدیہ۔قائم مقام جنرل سیکرٹری صدر انجمن - 11- احمدیہ۔۱۹۱۸ء کے ملتوی شدہ جلسہ سالانہ منعقدہ ۱۹۱۹ء کے افسر منتظم اعلیٰ ، سیکرٹری مجلس منتظمہ برائے جلسہ سالانہ ۱۹۱۹ء ، افسر بیت المال، قائم مقام افسر مدرسہ احمدیہ ، رکن وفد جو لفٹنٹ گورنر پنجاب کو ملاقی ہوا۔-۱۲ -١٣ ۱۹۲۰ء رکن مجلس معتمدین، سیکرٹری مجلس منتظم جلسہ سالانہ، قائم مقام جنرل سیکرٹری صدرانجمن ، قائم مقام افسر بہشتی مقبرہ، قائم مقام محاسب، انتظام برائے انسداد انفلوئنزا وغیرہ میں ایک شعبہ کے انچارج ، تائید خلافت میں اپنے دو خطوط کشف الاختلاف“ کے نام پر شائع کئے۔۱۹۲۱ء۔قائم مقام جنرل سیکرٹری صدر انجمن ، رکن وفد جس نے وائسرائے ہند سے ملاقات کی۔۱۴ - ۱۹۲۲ ء تا ۱۹۴۷ء۔رکن شوری، اس دوران میں سولہ بار اس کی ماتحت مجالس ( سب کمیٹیوں) کے رکن۔۱۹۲۲ء۔سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ، ناظم جلسه سالانه اندرونِ شہر، رکن وفد جن کی وساطت سے -10 -17 شہزاده و میلز کو تحفہ پیش کیا گیا یعنی تبلیغی کتاب۔۱۹۲۳ء سیکرٹری صدر انجمن احمد پی رکن وفد برائے ملاقات گورنر پنجاب ۱۷ ۱۹۲۴ ء حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے سفر مغربی ممالک کے وقت مجلس شوری کے رکن ، یکے از نائبین افسر جلسہ سالانہ برائے اندرونِ قصبہ۔-IA -19 - ۲۰ -۲۱ ۱۹۲۵ء قائم مقام افسر بہشتی مقبرہ اور پھر سیکرٹری بہشتی مقبرہ مقررہوئے اور تاوفات اس عہدہ پر فائز رہے۔۱۹۲۷ء۔قائم مقام ناظر تعلیم و تربیت۔۱۹۳۰-۳۱ء ،۳۲-۱۹۳۱ء۔افسر صیغہ جائداد بشمول صیغہ تعمیرات عمله صیغہ بہشتی مقبرہ ہی یہ کام سرانجام دیتا تھا۔۱۹۳۱-۳۲ء۔آپ سمیت پانچ بزرگوں نے اس عرصہ میں بطور قائم مقام ناظر تعلیم وتربیت کام کیا۔۲۲ تا وفات افسر مساجد مرکزیہ۔-۲۳ ۱۹۳۸ء شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کی تردید میں ” خلافت حقہ نام کتاب تائید خلافت میں تالیف کی۔