اصحاب احمد (جلد 5) — Page 163
172 روز ٹھہر کر والد صاحب وطن کے لئے روانہ ہوئے اس سے اگلے روز حضرت اقدس علیہ السلام آخری سفر لاہور پر روانہ ہوئے۔(صے ) اس طرح میر جی سید سرور شاہ صاحب کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہو گیا۔وصال سے قبل حضور بتاریخ ۲۷ ر ا پریل ۱۹۰۸ ء لا ہور روانہ ہوئے تھے۔بقیہ حاشیہ - آپ کے بعض اقارب کا کتاب میں ذکر آتا ہے ان کے متعلق بعض حوالے ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔(۱) سید حیات علی شاہ صاحب برادر نسبتی میر جی سید سرور شاہ صاحب، راجہ غلام محمد خان صاحب ذکر کرتے ہیں کہ وہ احمدی نہ تھے لیکن لٹریچر سے ان کا بلکہ ان کے بھائی کا احمدی ہونا ثابت ہے گو یہ معلوم نہیں کہ وہ صحابی تھے یا نہیں۔مثلاً (الف) رسید ز ر بابت پونے پانچ روپے۔۳۸ (ب) رسید ز ر پانچ روپے کی۔۳۹ (ج) اعانت بدر ۴۰ (1) بابت دسمبر ۱۹۱۱ ء آپ کی معرفت کسی کا چندہ ادا ہونا۔۴۱ (ھ) آپ نے تین خریدار مہیا کئے۔۴۲ (و) ان مخلصین میں ذکر جنہیں تعمیر مدرسہ کے لئے فراہمی چندہ کے لئے خاص طور پر مخاطب کیا گیا۔۴۳ ( ز ) الحکم کی اعانت کرنا۔۴۴ (ح) البدر میں مرقوم ہے:- وفات سید میر گل شاہ صاحب احمدی جو سید حیات علی شاہ صاحب احمدی کے برادر عزیز تھے۔افسوس کہ ۱۴ / اگست کو بعارضہ دق وسل فوت ہو گئے۔ان کے بھائی حیات علی شاہ صاحب مرحوم کے لئے دعائے مغفرت اور نماز جنازہ کی درخواست احمدی جماعتوں سے کرتے ہیں۔مرحوم ایک جوشیلا احمدی نوجوان تھا۔خدا غریق رحمت کرے۔۴۵