اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 145 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 145

۱۴۹ کے حرم سیدہ ام ناصر صاحبہ کی طبیعت خراب تھی اور نصیر احمد مرحوم ان کا پہلا بچہ ان کی گود میں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے فرمایا:- آپ کی صحت بہت اچھی ہے۔آپ نصیر احد کو دودھ پلایا کریں۔“ چنانچہ ایک ماہ میں نے دودھ پلایا کہ آپ فرماتی ہیں کہ بمقدمہ کرم دین چونکہ حضرت مولوی صاحب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ گورداسپور جایا کرتے تھے اور ابھی ہمارا کوئی بچہ نہیں تھا۔میں سکھوں سے کرایہ پر لئے گئے مکان میں اکیلی رہتی تھی۔اس لئے حضرت ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے اپنے پاس رہنے کے لئے فرمایا۔مولوی محمد علی صاحب کی اہلیہ فاطمہ بیگم جو بہشتی مقبرہ میں دفن ہیں۔پاس ہی بیٹھی تھیں انہوں نے کہا کہ میں اکیلی ہوں اور میرے متعلق کہا کہ انہیں میرے پاس رہنے دیں۔حضرت ام المؤمنین نے اجازت دے دی اور میں اہلیہ صاحبہ مولوی محمدعلی صاحب کے پاس کچھ عرصہ ٹھہری ہیں آپ یہ بھی بیان فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود سیالکوٹ تشریف لے جانے لگے تو حضرت ام المؤمنین نے حضور سے دریافت کیا کہ کیا مولوی سید سرور شاہ صاحب کی بیوی کو بھی ساتھ لے چلیں۔فرمایا۔ہاں ان کو الا تاریخ ولادت صاحبزادہ نصیر احمد ۲۶ مئی ۱۹۰۶ء ۵ ۱۹۰۶ ء میں چیت وساکھ ۱۶ / مارچ تا ۸ مئی تھا۔گو تاریخ ولادت بعد کی ہے لیکن اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسی سال کی عمر میں بھی چھپن سال قبل کے واقع کے مہینوں کی تعیین بغیر تحریری یادداشت کے بتانا جس میں ایک دو ماہ کا فرق ہو اصولاً روایت کی درستی پر دلالت کرتا ہے۔اپنی بچی اور صاحبزادہ نصیر احمد کی ولادت کے سن درست بتلائے ہیں۔مولوی مد علی صاحب کا قیام مسجد مبارک کی آخری چھت سے ملحق دار مسیح کے بالائی حصہ میں تھا۔بقیہ حاشیہ نتیجہ: کوائف بالا کا نتیجہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ ڈاکٹر عباداللہ صاحب نے یکم جنوری ۱۹۰۳ء کے لگ بھگ دختر بابا جیون بٹ صاحب کے رشتہ کے متعلق حضرت مولوی نورالدین صاحب سے ذکر کیا۔۱۶ / مارچ ۱۹۰۳ء کو نکاح ہوا اور ۲۷ یا ۲۸ مارچ کو رخصتانہ عمل میں آیا۔چونکہ ۲۷ کو جمعہ تھا اس دن قا دیان سے اور پھر حضرت مولوی صاحب جیسے بزرگ کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی بزرگ اس کی اجازت دے سکتے تھے اور نہ ہی اس وقت کی قادیان سے تیرہ احباب اپنے کاموں کی خاطر جمعہ ترک کر کے امرت سر جاسکتے تھے اور نہ ہی کوئی مجبوری تھی۔اس لئے ۲۸ / مارچ بروز آخری ہفتہ کی تاریخ درست قرار پاتی ہے اور آپ کی اہلیہ محترمہ نے ۱۹۵۰ء کے مکتوب میں یہی تاریخ رقم کی تھی اور یہی درست ہے۔