اصحاب احمد (جلد 5) — Page 141
۱۴۵ حضرت مولوی صاحب جب امرت سر سے رخصتانہ لے کر مجھے قادیان لائے تو آپ نے سکھوں کی گلی میں ایک مکان جو دو کچی کوٹھڑیوں اور کنال بھر محن پر مشتمل تھا چھ آنے ماہوار کرایہ پر لے کر رہائش اختیار کی۔بعد میں مرزا مہتاب بیگ صاحب کا جو مکان اس گلی میں تھا ہمارا مکان اس کے قریب تھا۔میری پلوٹھی کی بچی به حاشیہ سے پیش آنا چاہیئے۔دوسری غرض شادی سے یہ ہے کہ انسان کے اندر بہت سے قومی ایسے ہیں کہ ان کا نشو ونما ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ شادی نہ ہو۔جن بعض لوگوں کے بیوی بچے سالہ وغیرہ نہیں ہوتے وہ ایسے بطال ہو جاتے ہیں کہ نفس پر حکومت کا ذریعہ ان کو مل ہی نہیں سکتا۔اکیلے ہوتے ہیں جہاں سے ذرا طبیعت بگڑی۔چل دیئے اور اسی قسم کی باتیں ان سے سرزد ہوتی ہیں۔یہ موقعے نفس پر قابو پانے اور حکومت کرنے کے ہوتے ہیں۔جو ان کو میسر نہیں آتے۔جو شادی کرتا ہے تو اکثر اوقات ایک ان پڑھ، کمزور، نا آشنا عورت سے پالا پڑتا ہے۔پھر اسے ایک مقام پر اپنے ساتھ رکھ کر باہم زندگی بسر کرنی ذرا سوچ کر دیکھو اس کے لئے کس قد رقوت درکار ہے۔جب تک انسان اپنے قومی پر حکمران نہ ہو تو گزارہ ہو ہی نہیں سکتا۔اپنے نفس کے خلاف عورت سے کلمات سننے پڑتے ہیں۔وہ نا تربیت یافتہ ہوتی ہے۔اس کو وسیع علم نہیں ہوتا۔اس کی باتوں پر اور بعض خانگی نقصانوں پر صبر کرنا پڑتا ہے ایک سبق ہے جو کہ شادی کرنے سے انسان کو ملتا ہے۔خدا طرفین کے دل میں یہی ڈالے کہ وحدت اور الفت اور تقویٰ کی نیت سے یہ رشتہ ہو اور سب دعا کرو کہ جو امور قرآن چاہتا ہے وہ پوری ہوں۔اس کے بعد مولوی صاحب نے لڑکے سے پوچھا کہ فلاں شخص اپنی بیٹی بنام۔۔۔به هر ۱۵ روپیہ آپ کے نکاح میں دیتا ہے آپ کو قبول ہے۔لڑکے نے کہا ہاں۔پھر لڑکی کے والد سے پوچھا کہ آپ کو قبول ہے۔اس نے کہا ہاں قبول ہے اس کے بعد دعا کی گئی۔‘1 گو اس خطبہ وغیرہ کوائف میں مولوی صاحب اور آپ کے خسر صاحب کے اسماء موجود نہیں لیکن خاکسار مؤلف بوجوہات ذیل یقین کرتا ہے کہ یہ آپ ہی کا نکاح ہے۔آپ ایک اعلی پیر خاندان کے چشم و چراغ تھے جن کے مرید دور دراز کے علاقوں تک اور پشتہا پشت سے پھیلے ہوئے تھے۔احمدیت سے قبل مسلمانوں میں بھی غیر مسلموں کے اونچ نیچ کے شدید اثرات سرایت کر چکے تھے۔آپ کو یہ معلوم کر کے سخت دھکا لگا کہ آپ کے خسر پشمینہ کا کام کرتے ہیں۔آپکا بیان اوپر درج ہے کہ آپ نے سابقہ خاندانی روایات کے خلاف اس انکشاف کو صبر سے برداشت کیا ورنہ عام حالات میں ممکن تھا کہ سسرال سے واپس اُٹھ آتے۔