اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 104 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 104

۱۰۵ صرف رقعہ کا جواب رقعہ سے دیا جاوے اور باقی کل احمدی احباب کو کہہ دیا کہ وہ اب رقعہ دیے جانے کے بعد اپنے اپنے مقام پر چلے جاویں۔اتنے میں رقعہ کا باقی حصہ دستخط ہو کر آ گیا اور مولوی صاحب کے حوالے کر دیا گیا۔۵۷ ثناء اللہ نے مباحثہ کی طرح ڈالنی چاہی۔جسے حضرت اقدس نے منظور نہ کیا۔کیونکہ یہ آپ کے اپنے وعدہ کے خلاف تھا اور مباحثات ترک کرنے کا وعدہ بھی اسی لئے کیا تھا کہ اس سے فوائد کم ہی برآمد ہوتے ہیں اور مولوی ثناء اللہ کوتحقیق حق کی دعوت دی گئی تھی اور اس کے لئے کافی موقعہ دیا گیا تھا لیکن ان کوتو تحقیق منظور ہوتی تو بلا اطلاع آ کر مخالفین کے اڈہ میں قیام کیوں کرتے ؟ اور اس وقت کیوں آتے جب حضور ایک مقدمہ کے باعث قریب میں سفر پر جانے والے تھے۔اسی وجہ سے مولوی ثناء اللہ نے مباحثہ کا رنگ دینے پر اصرار کیا اور جب اس شر انگیزی کا موقع نہ ملاتو واپس چلے گئے۔اس سلسلہ میں بارشاد حضرت اقدس آخری چٹھی مولوی سید محمد احسن صاحب نے مولوی ثناء اللہ کولکھی کہ حضرت اقدس اللہ تعالیٰ سے وعدہ اجتباب مباحثات کر چکے ہیں۔مامور من اللہ ہونے کے باعث وہ خلاف وعدہ نہیں کر سکتے۔اس چٹھی پر مولوی سرور شاہ صاحب و ابوسعید عرب کی شہادت ثبت ہے۔۵۸ موضع مد کے متعلق پیشگوئی کا پورا ہونا ایک سال کے قلیل عرصہ میں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی اپنے پورے جلال اور کمال کے ساتھ پوری ہوئی۔چنانچہ مرقوم ہے کہ:- ۱۵/ نومبر ۱۹۰۳ء کو کتاب اعجاز احمدی میں حضرت اقدس نے موضع مد کے متعلق اپنے عربی قصیدہ میں ایک پیشگوئی کی تھی جس میں صراحتا بتلایا گیا تھا کہ عنقریب مد کی زمین تباہ ہوگی۔چنانچہ اس کتاب کے صفحہ ۴۵ پر اوّل شعر یہی ہے۔ارای ارض مُةٍ قد أريد تبارها وغادرهم ربـی کـعُـصـن تـجـدر میں مد کی زمین دیکھتا ہوں کہ اس کی تباہی نزدیک آ گئی ہے اور میرے رب نے ان کو کٹی ٹہنی کی طرح کر دیا۔) سو الحمد للہ ! کہ وہ بات پوری ہو کر رہی۔مد ایسا مقام ہے کہ جس کی آبادی دو