اصحاب احمد (جلد 5) — Page 105
1+7 ڈھائی سو آدمی سے زیادہ نہیں ہے اور اب ان میں سے ۱۰۸ طاعون۔۔۔۔سے ہلاک ہو چکے ہیں اور ابھی طاعون نے اپنا خیمہ وہاں سے اٹھایا نہیں ہے۔یہ ہلاکت وہاں نہ آتی اگر حضرت مسیح موعود کے اس بتائے ہوئے علاج پر عمل درآمد کیا جاتا اور اپنی شرارتوں سے توبہ کی جاتی جو کہ آپ نے اسی قصیدہ کے صفحہ ۶۳ پر لکھا ہے اور وہ یہ ہے۔وليس علاج الوقت الا اطاعتى اطيعون فالطاعون يفنى ويُدحر ( علاج وقت میری اطاعت ہے۔پس وہ یہی طاعون کہ ان کے ملک میں پہنچ گئی ہے تا ان کی آنکھیں کھلیں۔) اور اس قصیدہ میں صفحہ ۵۶ پر مڈ کی نسبت دعا کے رنگ میں ایک اور پیشگوئی ہے۔لقوم هذى لا بارك الله مُد هم جهول فادي حق كذب فابشروا ( اس شخص نے ایک قوم کی خاطر کے لئے بکواس کی۔خدا ان کے مذ کو برکت نہ دے۔یہ شخص جاہل ہے۔اس نے دروغ گوئی کا حق ادا کر دیا۔اس لئے وہ لوگ خوش ہو گئے ) کاش کہ سوچنے والے سوچیں اور دیکھنے والے دیکھیں کہ کیا یہ ایک نشان صداقت کا نہیں ہے۔ابھی چند ماہ ہوئے کہ ہم نے اخباروں میں پڑھا تھا کہ ایک شخص نے بنگال میں دربار دہلی وغیرہ کی تقریب پر چند ایک پیشگوئیاں کی تھیں مگر ایک بھی پوری نہ ہوئی اور ادھر یہ پیشگوئی ہے کہ جس کا قائل اُسے اپنی صداقت کا معیار ٹھہراتا ہے اور اپنی زندگی میں اپنے کلام کے پورا ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔‘ ۵۹ (حضرت اقدس نے فرمایا مد سے خبر آئی ہے کہ اس جگہ آبادی کچھ اوپر دو سو آدمی کی ہے اور اب تک ایک سو تین آدمی مر چکے ہیں اور ابھی چار پانچ روز مرتے ہیں۔اس پر حضرت اقدس نے حکم دیا کہ اخباروں میں مد کے متعلق پیشگوئی مندرجہ قصیدہ اعجاز احمدی کو شائع کر کے دکھائیں اور مولوی ثناء اللہ وغیرہ کو آگاہ کریں کہ وہی الفاظ جن پر وہ مقدمہ بنوانا چاہتا تھا۔خدا تعالیٰ اب پوری کر رہا ہے۔اب لوگ سوچیں