اصحاب احمد (جلد 5) — Page 68
۶۸ اور انہیں اس کے چھوڑنے پر آمادہ کر لیا۔یہ ایک قسم کا دنگل تھا۔اب اس کا اکھاڑہ تیار ہوا۔چٹائیاں بچھائی گئیں۔ادھر چھ سات سو غیر احمدی سننے کے لئے جمع تھے اور ان میں بکثرت مولوی طبقہ کے لوگ بھی تھے اور دوسری طرف صرف یہ تین احمدی تھے۔دو پہر سے قبل مباحثہ شروع ہوا۔حضرت مولوی صاحب نے قریباً ایک گھنٹہ میں اپنا مضمون لکھوا کر سُنایا۔اس سے قبل ایک موقع پر حضرت مولوی صاحب نے مولوی ثناء اللہ صاحب کا جواب لکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کوئی دوسری آیت دریافت کی تھی تو حضور نے فرمایا تھا کہ دوسری آیت جانے دیں آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی ہی کافی ہے اور اصل ہے۔چنانچہ یہ بات آپ کو یا تھی اور اس موقع پر آپ نے یہی آیت پیش کی تھی۔آپ کا مضمون سُنانا تقریر کا رنگ رکھتا تھا۔پہلی بار جب آپ بول رہے تھے تو غیر احمدی مولوی دانت پیتے تھے اور چاہتے تھے کہ اس طرح مباحثہ نہ ہو بلکہ مولوی ثناء اللہ صاحب یہ کہہ دیں کہ احمدی کا فر ہیں اور اس طرح شور پڑ جائے اور مباحثہ ختم ہو جائے۔اس کے بعد مولوی ثناء اللہ صاحب نے جواب تیار کیا اور پڑھا۔اس میں یہ بھی کہا کہ مرزا صاحب نے فلاں کتاب میں لکھا ہے کہ مسیح زندہ ہیں اور کچھ زبانی تقریر کی۔اس میں آتھم کی پیشگوئی کے نہ پورا ہونے کا ذکر کر کے اعتراض کیا۔احمد علی صاحب مذکور نیچیری اور وہابی تھے اور جلسہ کے صدر تھے اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے قریب بیٹھے ہوئے تھے۔چونکہ بعد میں صداقت مسیح موعود کا مضمون بھی زیر بحث آنا تھا۔اس لئے تمہید کے طور پر حضرت مولوی صاحب نے نبی کی صداقت کے بائیس نشان بیان کئے تھے لیکن پیشگوئیوں کا ذکر بالکل نہیں کیا تھا کیونکہ آپ کو معلوم تھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب جھٹ آتھم کے معاملہ کو درمیان میں لے آئیں گے۔صدر نے کہا کہ شرط یہ تھی کہ پر چہ میں جو کمزوری رہ جائے زبانی تقریر کے ذریعہ سے اسے پورا کیا جاسکتا ہے۔مولوی سرورشاہ صاحب نے جو بیان کیا ہے اسے سن کر اب میں کفر سمجھتا ہوں کہ مسیح کو زندہ سمجھوں۔انہوں نے پیشگوئیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔اس لئے آپ کا زبانی اس کے متعلق کچھ کہنا غیر متعلق ہے۔البتہ حیات مسیح کو ثابت کرنے میں جو کمی ہے اسے پورا کریں۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا کہ میں ابھی ثابت کرتا ہوں اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى سے اگلی آیات پڑھ کر ترجمہ کر کے بیٹھ گئے اور کہا کہ اب نماز کا وقت ہو گیا ہے نماز پڑھ لیں حالانکہ ابھی بمشکل نماز کا وقت ہوا تھا۔میاں محمد یوسف صاحب کے مکان کے ملحقہ باغ میں حضرت مولوی صاحب بیٹھے تھے کہ اسی گاؤں کا ایک شریف الطبع لو ہار آیا۔وہ غیر احمدی تھا لیکن حضرت مولوی صاحب کی تائید کرتا تھا۔اس نے آ کر کہا کہ اب