اصحاب احمد (جلد 5) — Page 659
۶۶۶ جنوب مشرق کمرہ جو بطور دفتر سپرنٹنڈنٹ بورڈنگ کے ہے۔یہ چاروں خلافت ثانیہ میں تعمیر ہوئے تھے۔نوٹ نمبر ۴: یہ ظاہر کر دیا گیا ہے کہ پیمائش کمروں کے اندر سے کی گئی ہے یا با ہر سے۔پیمائش کی کئی بار پڑتال کر لی گئی ہے۔مکمل صورت میں کوئی کمرہ اپنی اصلی حالت میں نہیں۔البتہ بعض دیوار میں اپنی اصلی حالت میں ہیں۔جن کا آئیندہ تفصیل میں ذکر کر دیا گیا ہے۔صرف بعض کے متعلق کسی صحابی سے علم ہوا ہے۔اکثر کے متعلق خود موقعہ پر دیکھ کر اندازہ کیا ہے کہ اولین شکل پر ہیں۔بعض کو غلافی یعنی باہر سے پکی کر دیا گیا ہے اور اندر کی طرف سے کچی یعنی اصلی حالت میں ہیں۔نوٹ نمبر ۵: پہلے یہ عمارت مدرسہ تعلیم الاسلام اور اس کے بورڈنگ کی تھی اور کچھ عرصہ بعد اس عمارت میں ایک شاخ ( جماعت ) دینیات کی بھی کھول دی گئی تھی اور اسی عمارت میں حضرت مسیح و مہدی کے مبارک عہد میں تعلیم الاسلام کا لج بھی جاری کیا گیا تھا۔خلافت اولی میں مدرسہ تعلیم الاسلام اور اس کا بورڈنگ بیرون قصبہ کی نئی عمارات میں منتقل ہو گیا اور صرف مدرسہ احمدیہ اور اس کا بورڈ نگ اندرون قصبہ والی عمارت میں باقی رہ گیا۔دینیات کی شاخ کی بجائے مدرسہ احمدیہ خلافت اولی میں جاری ہو چکا تھا۔مدرسہ کے مغربی گیٹ پر بھی تاریخ اجراء ۱۹۰۹ء مرقوم ہے۔حضور کے عہد میں شرائط کڑی ہو جانے پر دو سال بعد کالج بند کرنا پڑا۔تفصیل بالا و ذیل خاکسار مؤلف نے ذیل کے صحابہ کرام سے معلوم کی ہے۔جہاں تفصیل کا سب کو علم نہیں وہاں بالوضاحت ذکر کیا گیا ہے۔دروازے مکرم مولوی عبدالرحمن صاحب فاضل کی یادداشت پر درج کئے گئے ہیں۔بعض کمروں کے دروازے ان سے بوجہ قلت وقت اور ان کی عدم موجودگی کے باعث دریافت نہیں کر سکا اور نہ یہ دریافت کر سکا ہوں کہ نمبر ۱۶ سے ۷ ا تک شمالی دیوار بھی تھی یا نہیں اس کمی کو انشاء اللہ پھر کسی وقت پورا کروں گا۔(الف) استاذی المکرم مولوی عبدالرحمن صاحب فاضل (امیر جماعت و ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ قادیان ) آپ بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۰۴ء یا ۱۹۰۵ء میں آپ پہلی بار قادیان آئے اور حضرت اقدس کے وصال سے چندروز قبل بوجہ بیمار ہونے کے آپ اپنے گاؤں چلے گئے تھے۔(از مؤلف ) آپ کی اولین زیارت قادیان کی تعیین کی کوشش انشاء اللہ تعالیٰ میں آپ کے سوانح شائع کرتے وقت کروں گا۔سر دست اتنا ذکر کرتا ہوں کہ ۱۹۰۵ء سے قبل آپ کا قادیان آنا یقینی ہے۔میرے استفسار پر آپ نے بتایا کہ آپ نے حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کو قادیان میں خوب اچھی طرح دیکھا تھا ( قاضی صاحب کی تاریخ وفات ۱۲ مئی ۱۹۰۴ ء ہے۔بحوالہ اصحاب احمد جلد ششم صفہ ۵۳)