اصحاب احمد (جلد 5) — Page 635
۶۴۱ و طویل عرصہ میں بڑی بڑی طاقت والی اور سخت سے سخت عناد اور بغض رکھنے والی قو میں گزری ہیں اور انہوں نے اسلام کی تباہی کے لئے کوئی تدبیر اور حیلہ اور کوئی داؤ اور کوئی کوشش پیچھے نہیں چھوڑی اور اپنے پیارے مال اور عزیز جانیں اس کی تباہی کے لئے تباہ کر دی ہیں۔لیکن باوجود اس کثرت اور اس طاقت اور اس کوشش اور اس عناد اور بغض اور اس عرصہ دراز کے اب تک کوئی بھی کسی چھوٹی سے چھوٹی سورۃ کی مثل نہیں لایا حالانکہ قرآن مجید نے اپنے صدق و کذب کا سارا دارو مدار مثل کے لانے نہ لانے پر رکھ دیا تھا لیکن عنا بھی ایسا سخت مرض ہے کہ خواہ کیسے ہی روشن اور قوی ترین دلائل اور نشان بتاؤ کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔اور اپنے انکار پر جمے رہتے ہیں اور ان دلائل کے ٹالنے کے لئے کوئی نہ کوئی عذر تراش ہی لیتے ہیں۔خواہ وہ عذر کیسا ہی رکیک کیوں نہ ہو۔اور وہ دلائل کیسے ہی لاجواب کیوں نہ ہوں۔اس برہان قاطع اور اعجاز ساطع کے ساتھ بھی (کہ جس کی تردید کی کوئی سبیل بجز اس کے متصور ہوسکتی ہی نہیں کہ وہ کسی سورۃ کی مثل بنا کر پیش کر دیں۔اور چودھویں صدی گزر رہی ہے اور اب تک کروڑ ہا سخت سے سخت اور قوی سے قومی مخالفوں میں سے کوئی بھی اس کی ایک سورۃ کی مثل نہیں لا سکا ) انہوں نے یہی کارروائی کی ہے۔اس وقت کے ویدوں نے تو یہ جواب دیا تھا کہ لو نشاء لقلنا مثل هذا ـ ( اگر ہم چاہتے تو ہم بھی ایسا ہی کہ دیتے ) اور یہ خیال نہ کیا کہ اگر کوئی ہم سے یہ سوال کرے گا کہ جب تم قرآن مجید اور محمد رسول اللہ کی تکذیب چاہتے ہو اور اس کے لئے ہر ایک منصوبہ ہر ایک تدبیر ہر ایک حیلہ کر رہے ہو۔اور رات دن اسی کوشش میں لگے رہتے ہو اور اپنے آرام کو بے آرامی سے بدل دیا ہوا ہے اور اپنے پیارے مالوں کو اس غرض کے حاصل کرنے کے لئے خاک کی طرح اور اپنے عزیز ترین رشتہ داروں کے ہزار ہا گراں مایہ خونوں کو پانی کی مانند بہار ہے ہو اور دنیا میں کوئی ایسا مقصد نہیں کہ جس کے لئے تم میں سے کوئی فرداً فرداً بھی اس قدر کوشش کرتا یا مالی اور جانی نقصان یا تکلیف برداشت کرتا ہو جس قدر کہ تم بحیثیت مجموعی اس مقصد کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہو۔اور پھر قرآن جیسا کلام بولنا نہ مذہب کے لحاظ سے تمہارے نزدیک ناجائز ہے اور نہ عرف کے لحاظ سے اور نہ ایسا بولنے سے تمہاری عزت و شرافت میں کوئی فرق آتا ہے اور نہ کوئی نقص لازم آتا ہے۔جو اس کے بولنے سے مانع ہوسکتا ہو۔بلکہ ظاہر ہے کہ جو شخص ایسا کلام پیش کر کے قرآن مجید کے اس برہان واعجاز کو تو ڑ کر قوم کے متفق علیہ اور اہم اور اعظم ترین مقصد کو حاصل کر دے گا کہ جس کے حاصل کرنے سے قوم کے سردار قوم کے بہادر قوم کے دانا قوم کے مال دار بلکہ ساری کی ساری قوم عاجز تھی اور قوم کو ان سب مشقتوں اور تکلیفوں اور نقصانوں اور پریشانیوں سے نجات دے گا کہ جن میں وہ اس مقصد کے حاصل کرنے میں مبتلا تھی تو اس میں ذرہ بھی شک نہیں کہ وہ ساری کی ساری قوم کے نزدیک سب سے زیادہ بہادر اور دانا اور لائق فائق اور نامی گرامی اور سب کی نظروں میں زیادہ کامل اور محسن