اصحاب احمد (جلد 5) — Page 630
۶۳۶ عیسائی امام زبان عربی اور معترضین کا عجز ” ہمارے زمانہ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا جائے تو سب قوموں نے عموماً اور عیسائی قوموں نے خصوصاً قرآن مجید کی کس قدر مخالفت کی ہے۔یہاں تک کہ اس کے برباد کرنے کے لئے کروڑوں روپے خاک کی مانند اڑا دئے ہیں۔اور اب بھی اڑا رہی ہیں اس کی تردید کے لئے انبار در انبار کتابیں اور رسالے شائع کئے گئے ہیں اور کئے جاتے ہیں۔اور ان میں لاکھوں ایسے ہیں کہ ان کی مادری زبان عربی ہے بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں جو شخص ساری دنیا میں عربی زبان کا امام تسلیم کیا گیا ہے۔وہ ایک عیسائی ہے اور عیسائی نے علاوہ اور علوم وفنون کے عربی زبان پر بھی بڑی بڑی ضمیم اور لطیف کتابیں لکھی ہیں لیکن باوجود اس عناد اور اس تبحر علمی اور کمال اور بے حد کوشش کے کسی نے کسی ایسی چھوٹی سورۃ کی مثل بھی شائع نہیں کی کہ جس کے آہستہ آہستہ پڑھنے پر بھی آدھ منٹ خرچ نہیں ہوتا۔عیسائیوں نے بسم اللہ سے لے کر والناس تک بالالتزام اعتراض لکھے ہیں۔اور۔۔۔سب جانتے ہیں کہ اعتراض ایک ایسی چیز ہوتی ہے کہ ہر ایک مذہب والے دوسرے مذہب پر کیا کرتے ہیں۔اور اس کے پیروان کا جواب بھی ضرور ہی دے دیا کرتے ہیں۔اور یہ بھی کہ اس سے نہ وہ مذہب تباہ ہوتا ہے نہ مرتا ہے اور نہ اس پر کوئی اور معتد بہا فائدہ مرتب ہوتا ہے لیکن قرآن مجید کی کسی سورۃ کی مثل پیش کرنے میں نہ وقت ہوتی ہے اور نہ زیادہ وقت صرف سکتا ہے۔اور نہ اس کا کوئی جواب دے سکتا ہے اور پھر بات ایسی زبر دست ہے کہ اس کے بعد یہ مذہب کبھی سراٹھا سکتا ہی نہیں اور بالکل مرجاتا ہے۔اور اس کے پیروکار ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو جاتے ہیں۔اور پھر یہ بھی نہیں کہ وہ اس کو جانتے نہیں خوب جانتے ہیں اور اہل اسلام ہمیشہ اس زندہ معجزہ کو پیش کر کے ان کی رگ حمیت اور خون غیرت کو جوش بھی دلاتے رہے ہیں لیکن اب تک کسی نے ادنی سی ادنیٰ سورۃ کی مثل بھی پیش نہیں کی۔چہ جائیکہ ان کے منصف اس کے مثل ہونے کا فیصلہ دیں۔پس یہ ہے اس کا ہمیشہ کے لئے زندہ معجزہ ہونا۔اعجاز قرآن کی دو بناء رہا اس کا اعلیٰ درجہ کے قومی اور یقینی اصول پر مبنی ہونا تو اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے۔کیونکہ اس دلیل کی بنیاد دو باتوں پر ہے ایک یہ کہ خداوند تعالیٰ چونکہ اپنی ذات میں بے مثل ہے لہذا وہ اپنے صفات و افعال میں بھی بے مثل کیا ممتنع المثل ہے۔اور انسان چونکہ اپنی ذات میں بے مثل نہیں ہے بلکہ اس کی ضرور مثل ہے لہذا اس کی صفات اور افعال میں بھی مثل ہونی چاہئے۔بلکہ ضروری ہے پھر ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ انسان اور خداوند