اصحاب احمد (جلد 5) — Page 618
۶۲۴ سے خداوند ذوالجلال خود اس کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے۔اور اپنے مشاہدہ کے انوار سے اس کو رنگین کر دیتا ہے۔اسی طرح پہلے فرشتوں پر اگر ایمان بالغیب تھا تو یہ وہ طریق بتاتا ہے کہ جس پر چل کر انسان اس مقام پر پہنچتا ہے کہ فرشتے اس پر نازل ہو کر بشارتیں دیتے ہیں۔جیسا کہ فرمایا اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَاَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۱۷، اور اسی طرح جنت پر اگر ایمان بالغیب تھا تو قرآن اس راستہ پر چلانا چاہتا ہے کہ جس پر قدم مارنے سے اسی دنیا میں جنت پالیتے ہیں۔جیسا کہ مذکورہ بالا آیات میں آیا ہے۔یا ولمن خاف مقام ربه جنتان میں آیا ہے۔یعنی ایسے لوگوں کو ایک جنت اسی عالم دنیا میں ملتا ہے۔اور دوسرا آخرت میں۔غرضیکہ جن امور پر انسان ایمان بالغیب رکھتا ہے۔قرآن مجید اس کو ایسی راہ بتاتا ہے کہ اس پر قدم مارنے سے وہ اس کے مشاہدہ میں آجاتے ہیں۔اور جو لوگ اقامت الصلوۃ کرتے ہیں ان کو ایسی راہ بتاتا ہے جس سے ان کی نماز قائم ہو جاتی ہے۔یعنی جن لوگوں کی نماز ابھی پہرہ پر قائم ہونے کے قابل نہیں اور نماز کے سپاہی کی ڈیوٹی جو کہ قرآن مجید نے تنهى عن الفهشاء والـمـنـكـر (نماز بے حیائیوں اور نا جائز امور سے روکتی ہے ) میں بتائی ہے ابھی وہ نہیں بجالا سکتی۔اور نمازی بار بار اس کو کھڑا کرتا ہے اور وہ بار بار گر جاتی ہے تو قرآن مجید ان کو ایسے راستہ کی ہدایت کرتا ہے کہ جس سے ان کی نماز قائم ہوکر پہرہ دینے کے قابل ہو جاتی ہے۔اور انسان کو فحشاء اور منکر سے بالکل روک دیتی ہے اور اس وقت نماز دنیا کی سب چیزوں سے لذیذ اور دل کا سرور اور آنکھوں کی ٹھنڈک اور روح کی غذا ہو جاتی ہے۔اور اسی طرح جو لوگ پہلے اللہ کے دئے ہوئے سے بڑی مشکل کے ساتھ کچھ خرچ کرتے ہیں تو قرآن مجید ان کو ایسی ہدایت کرتا ہے کہ جس سے وہ ان تؤدوا الا منت الى اهلها کے موافق خدا کا سب کچھ دیا ہوا اس کے راہ میں خرچ کرتے ہیں۔اور جو جو چیزیں اور طاقتیں کہ خدا وند کریم نے ان کو امانت دی ہوئی ہیں وہ خداوند تعالیٰ کو واپس دے دیتے ہیں اور یہ سب کچھ بڑے شوق اور اخلاص سے کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنی پیاری جان بھی بڑی خوشی سے دینے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں۔هُدًى لِلْمُتَّقِينَ تحصيل حاصل نہیں بلکہ یہ ایک بے مثل کمال ہے غرض معترض نے چونکہ قرآن مجید کی ہدایت کو اسی قدر میں محصور یقین کیا ہوا تھا جو کہ متقی کی تفسیر میں یہاں پر بیان ہوا ہے لہذا اس نے اعتراض کر دیا کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ میں تحصیل حاصل ہے۔۔۔۔خلاصہ جواب یہ ہے کہ معترض کا یہ خیال محض غلط ہے کہ قرآن مجید نے انہی امور کی ہدایت کرنی ہے جو کہ متقی کو پہلے سے حاصل