اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 609 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 609

۶۱۵ ان کو کہا کہ خدا حق سے نہیں شرماتا۔میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں ٹھیک ٹھیک بتلاؤ آپ نے پوچھا کہ عورت خاوند کے بغیر کتنی مدت گزار سکتی ہے تو حضرت حفصہ نے فرمایا کہ چار مہینے۔پس اس سے معلوم ہوا کہ یہ انتہائی حد ہے۔اس کے بعد جب وہ چار مہینے تک اپنے مذکورہ جذبہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے جذبات کو دباتی رہی ہے۔اب وہ معذور ہے۔اب وہ اس کے دبانے سے قاصر ہے۔مگر ظاہر ہے کہ چار مہینے کے بعد فورا ہی انتظام نہیں ہو جا تا مثلاً اس عورت کے خاوند کو چار مہینے کے بعد بلایا جائے گا تو سفر کے لئے بھی کچھ وقت چاہئے۔اس لئے ان ضرورتوں کی اوسط کو مد نظر رکھتے ہوئے چار ماہ پر دس دن زائد مقرر کر دئے تو فرمایا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے تو وہ چار ماہ دس دن تک کسی اور سے نکاح کرانے کا کھلا کھلا اظہار نہ کرے۔اس کے بعد اس کو اجازت ہے کہ وہ نکاح کرے۔پس عدت کا اصل فلسفہ یہ ہے ورنہ حمل کا جاننا کہ حمل ہے یا نہیں۔اس کا نام استبراء ہے۔دوئم۔اس کا ایک ہی حیض سے پتہ معلوم ہو جاتا ہے کہ حمل ہے یا نہیں۔تین حیض یا چار ماہ دس دن گزارنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں۔پس حمل سے رحم کا پاک ہونا عدت طلاق یا عدت وفات کی وجہ قرار دنیا مولویا نہ ڈھکوسلہ ہے ورنہ حقیقتا یہ بالکل غلط ہے شریعت نے اس کا بھی اعتبار کیا ہے۔لیکن اس کا نام استبراء رکھا ہے اور وہ لونڈی کے بارہ میں ہے۔(۳۸-۰۵-۳۰) -۵۵- کیا خلیفہ وقت یا اس کا نمائندہ امامت کا زیادہ حق دار ہے استفتاء ( از پرائیویٹ سیکرٹری صاحب) خلیفہ وقت یا اس کا نمائندہ جس جگہ جائے تو کیا وہ وہاں کے مقامی لوگوں سے امامت اور جمعہ پڑھانے کا زیادہ حق دار ہے بعض فتنہ پرداز خلیفہ وقت کے نمائندہ کو لا يؤمن الرجل الخ۔پیش کر کے حق امامت سے بیدخل کرنا چاہتے ہیں۔فتوی: بعد دعا دور و در قمطراز ہے جبکہ حدیث میں آیا ہے کہ لا یــومــن الـرجل الرجل في اهله و من زار قوماً فلا يو مهم وليو مهم رجل منهم - تو کیا خلیفہ وقت یا اس کا نمائندہ کہیں جائے تو وہ ان لوگوں کا امام الصلوۃ بن سکتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ وہاں وہ امام الصلوۃ بن سکتا ہے۔بلکہ ضروری ہے وہی امام الصلوۃ بنے اور اس کی موجودگی میں کسی اور شخص کا امام الصلوۃ بننا شرعاً درست ہی نہیں اس کی وجہ یہ ہے۔اول تولا يؤمن الرجل الرجل فی اھلہ کسی کے گھر میں امام الصلوۃ بننے کے متعلق ہے مسجد کے متعلق نہیں۔ومن زار قومًا فلا يؤمهم وليؤمهم رجلٌ منهم۔اس شخص کے متعلق ہے جو کہ اپنے طور پر ان لوگوں کی ملاقات کے لئے گیا ہو۔نہ نبی یا خلیفہ نبی یا ان کے بھیجے ہوئے نمائندہ کے متعلق ہے۔کیونکہ ان کی