اصحاب احمد (جلد 5) — Page 591
۵۹۷ اس متفق امر کی خلاف ورزی کرتا ہے کہ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ اور تبع تابعین اور ساری امت کا بلا استثناء عمل چلا آیا ہے۔لہذا ایسا کرنا بدترین بے حیائی اور گناہ ہے۔(۳۸-۰۳-۱۵) -۲۴ کیا عورتوں کی شہادت ہی کافی ہے استفتاء - ایک مقدمہ میں چار عورتیں گواہ ہیں اور وہ معاملہ صرف عورتوں کا ہی ہے۔اور عورتوں کا ہی آپس میں لین دین ہوا ہے۔آیا اس معاملہ میں چار عورتیں گواہی کی تکمیل کے لئے کافی ہو سکتی ہیں۔فتویٰ : جن معاملات میں عورتوں کی گواہی لی جا سکتی ہو ان معاملوں میں عورتوں کی گواہی لینی کافی ہے۔(۲۰-۰۲-۳۹) ۲۵- خلع وطلاق اور رجوع استفتاء۔میں نے اپنی عورت کے تنگ کرنے پر ایک روپیہ کے کاغذ پر ضلع لکھ کر دے دیا۔اس نے زیور مجھے واپس دے دئے۔میں نے لکھ دیا کہ دوصد روپیہ مہر بھی ماہواری قسط سے ادا کروں گا۔بعد میں اس نے کاغذ جلا دئے۔ہمارے درمیان صلح ہوگئی۔ہم مل جل کر رہنے لگے۔اس کے ایک ماہ بعد پھر جھگڑا شروع ہو گیا۔میں نے طلاق نامہ لکھ دیا۔اور رجسٹری نکاح منسوخ کرا دی۔عورت نے مجھے زیور واپس کر دیا۔میں نے اس کو لکھ دیا کہ بیس روپے ماہوار کے حساب سے مہر ادا کروں گا۔اس کے بعد عورت پھر زاری کرنے لگی۔دس دن کے اندر پھر میں رجوع کرلیا۔اور زیور میں نے اس کو واپس کر دیا۔-1 ا۔کیا شرعا میری بیوی مطلقہ ہوگئی ہے جبکہ میری نیت ایک طلاق کی تھی۔اور عدت کے اندر واپس کر لی گئی۔کیا زیور مہر میں مجرا ہو سکتا ہے یا زیور بھی دینا ہوگا۔اور مہر بھی؟ فتویٰ : آپ نے لکھا ہے کہ پہلے آپ نے ضلع لکھ دیا۔اور عورت نے زیور واپس کر دیا اور آپ نے مہر کی ادائیگی کے لئے تحریر لکھ دی مگر اس کے بعد صلح ہوگئی۔اور دوسری دفعہ آپ نے طلاق لکھ دی اور رجسٹری نکاح منسوخ کرا دی۔اور زیور واپس ہو گیا۔اور مہر کی ادائیگی کی تحریرلکھ دی۔پھر دس دن کے اندر اندر رجوع کرلیا۔حدیث کی رو سے خلع طلاق نہیں کہ اس سے رجوع ہو سکے۔بلکہ فسخ نکاح ہے۔اور فسخ نکاح کے بعد رجوع نہیں۔ہاں فریقین راضی ہوں تو دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔اور بعض ائمہ دین کے نزدیک خلع طلاق ہے۔مگر ایسی نہیں کہ اس کے بعد رجوع کر لیا جائے بلکہ بائن ہے کہ جس کے بعد نکاح ثانی ہو سکتا ہے۔