اصحاب احمد (جلد 5) — Page 567
۵۷۳ ☆ دفعہ صاحب ( دوست ) اور دو بار رفیق کے پُر محبت الفاظ سے یاد فرمایا ہے۔حدیث قدسی میں جو آتا ہے کہ بندہ نوافل کے ذریعہ تقریب الہی حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ یوضع له القبول في الارض ۵۷ یعنی بارگاہ الہی سے اپنے پیارے بندے کی دنیا میں قبولیت عطا کرنے کا حکم صادر ہوتا ہے۔مباحثہ مد کے نتیجہ میں تصرف الہی سے یہ اعجازی قصیدہ معرض وجود میں آیا۔جس کے متعدد اشعار الہامی ہیں۔حضور فرماتے ہیں کہ اگر چہ میں اب تک عربی میں سترہ کے قریب بے مثل کتاب شائع کر چکا ہوں مگر آج مجھے خیال آیا کہ چونکہ وہ کتا ہیں صرف فصیح و بلیغ عربی میں ہیں بلکہ قرآنی حقائق ( معارف) پر بھی مشتمل ہیں۔ممکن ہے کہ یہ لوگ جواب دیں کہ ہم حقائق سے نا آشنا ہیں۔اگر صرف فصیح عربی میں منظوم کلام ہوتا تو ہم بھی نظیر بنا سکتے۔اور یہ بھی خیال آیا کہ اگر صرف کتاب اعجاز مسیح کی نظیر کا مطالبہ کیا جائے تو مخالف کہیں گے کہ یہ کیوں کر ثابت ہو کہ یہ کتاب ستر دن میں تالیف کی ہے۔یہ کتاب تو دو برس میں بنائی گئی ہے اور صورت میں صفائی سے ستر دن کا ثبوت دینا ہمارے لئے مشکل ہوگا۔سومنا سب سمجھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور درخواست کی جائے کہ ایک قصیدہ بنانے کی روح القدس سے تائید فرمائے جس میں مباحثہ مد کا ذکر ہوتا یہ سمجھنا مشکل نہ رہے کہ یہ قصیدہ کتنے دنوں میں تیار کیا گیا ہے۔سو میں نے دعا کی کہ اے خدائے قدیر! مجھے نشان کے طور پر توفیق دے کہ ایسا قصیدہ بناؤں اور وہ دعا میری منظور ہوگئی اور روح القدس سے مجھے ایک خارق عادت تائید ملی اور پانچ دن میں ہی میں نے یہ قصیدہ مکمل کر لیا۔فرماتے ہیں: ” پس تائید الہی کا یہ ایک بڑا نشان ہے تا مخالف کو شرمندہ اور لا جواب کرے میں اس نشان کو مولوی ثناء اللہ اور اس کے مددگاروں کے سامنے پیش کرتا ہوں۔وہ دوسروں کی مدد حاصل کریں۔اگر وہ چودہ دن میں اسی قدر اشعار فصیح و بلیغ شائع کر دیں تو میں دس ہزار روپیہا انعام دوں گا۔ان کو مقابلہ پر اکساتے ہوئے حضور تحدی سے فرماتے ہیں کہ مولوی مذکور اور اس کے رفقاء کو مفت میں فتح ہو جائے گی۔اگر میں صادق ہوں اور اللہ تعالیٰ شاہد ہے کہ صادق ہوں تو ناممکن ہے کہ یہ لوگ پانچ دن میں ایسا قصیدہ بناسکیں اور اردو مضمون کار دلکھ سکیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی قلموں کو توڑ دے گا اور ان کے دلوں کو نبی کر دے گا۔‘ ۵۸ ☆ فرمایا: میں جس طرح کلمہ پر شہادت دیتا ہوں اسی بصیرت اور یقین کے ساتھ میں اس صحی اور صحبتی کے الفاظ جو صاحب کی جمع ہیں ( ص ۴۳،۴۲،۴۱،۴۰،۳۹) رفقتی (میرے رفیق اور رفقہ ( یہ الفاظ رفیق کی جمع ہے ) ( ص ۴۹،۴۰ ) کے الفاظ سے یاد فرمایا۔