اصحاب احمد (جلد 5) — Page 561
حضور نے بے پروائی سے فرمایا۔خیر ہم بٹالہ چلتے ہیں خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب لاہور سے واپس آتے ہوئے وہاں ہم کو ملیں گے۔ان سے ذکر کریں گے اور وہاں پتہ لگ جائے گا کہ تبدیل مقدمہ کے متعلق ان کی کوشش کا کیا نتیجہ ہوا ہے۔چنانچہ اسی دن حضور بٹالہ آگئے۔گاڑی میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب بھی مل گئے۔انہوں نے خبر دی کہ تبدیل مقدمہ کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔پھر حضرت صاحب گورداسپور چلے آئے اور راستہ میں خواجہ صاحب اور مولوی صاحب سے اس واقعہ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔جب آپ گورداسپور مکان پر پہنچے تو حسب عادت الگ کمرے میں چار پائی پر جالیٹے مگر اس وقت ہمارے بدن کے رونگٹے کھڑے تھے کہ اب کیا ہوگا۔حضور نے تھوڑی دیر کے بعد مجھے بلایا۔میں گیا اس وقت حضرت صاحب نے اپنے دونوں ہاتھوں کے پنجے ملا کر اپنے سر کے نیچے دئے ہوئے تھے اور چت لیٹے ہوئے تھے۔میرے جانے پر ایک پہلو پر ہو کر کہنی کے بل اپنی ہتھیلی پر سرکا سہارا دے کر لیٹ گئے۔اور مجھ سے فرمایا میں نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ وہ سارا واقعہ سنوں کہ کیا ہے۔اس وقت کمرے میں کوئی اور آدمی نہیں تھا۔صرف دروازے پر میاں شادی خان کھڑے تھے۔میں نے سارا قصہ سنایا کہ کس طرح ہم نے یہاں آکر ڈاکٹر اسمعیل خان صاحب کو روتے ہوئے پایا۔پھر کس طرح ڈاکٹر صاحب نے منشی محمد حسین کے آنے کا واقعہ سنایا اور پھر محمد حسین نے کیا واقعہ سنایا۔حضور خاموشی سے سنتے رہے۔جب میں شکار کے لفظ پر پہنچا تو یک نخت حضرت صاحب اٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ کی آنکھیں چمک اٹھیں اور چہرہ سرخ ہو گیا۔اور آپ نے فرمایا میں اس کا شکار ہوں ! میں شکار نہیں ہوں۔میں شیر ہوں۔اور شیر بھی خدا کا شیر۔وہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتا ہے؟ ایسا کر کے تو دیکھے۔یہ الفاظ کہتے ہوئے آپ کی آواز اتنی بلند ہوگئی کہ کمرے کے باہر کے بھی سب لوگ چونک اٹھے اور حیرت کے ساتھ ادھر متوجہ ہو گئے مگر کمرے کے اندر کوئی نہیں آیا۔حضور نے کئی دفعہ خدا کے شیر کے الفاظ دہرائے اور اس وقت آپ کی آنکھیں جو ہمیشہ جھکی ہوئی اور نیم بند رہتی تھیں واقعی شیر کی آنکھوں کی طرح کھل کر شعلہ کی طرح چمکتی تھیں اور چہرا اتنا سرخ تھا کہ دیکھا نہیں جاتا تھا۔پھر آپ نے فرمایا میں کیا کروں۔میں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہننے کو تیار ہوں۔مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں میں تجھے ذلت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کروں گا۔پھر آپ محبت الہی پر تقریر فرمانے لگ گئے اور قریباً نصف گھنٹہ تک جوش کے ساتھ بولتے رہے لیکن پھر یکلخت بولتے بولتے آپ کو ابکائی آئی اور ساتھ ہی تے ہوئی جو خالص خون کی تھی۔جس میں کچھ خون جما ہوا تھا اور کچھ بہنے والا تھا۔حضرت نے قے سے سراٹھا کر رومال سے اپنا منہ پونچھا اور آنکھیں بھی پونچھیں جو قے کی وجہ سے پانی لے آئی تھیں۔مگر آپ کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ قے میں کیا نکلا ہے۔کیونکہ آپ نے یکلخت جھک کر