اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 560 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 560

بعض آرئیے اپنے دوستوں کو بھی جلسہ میں لے گئے تھے۔چنانچہ اسی طرح میں بھی وہاں چلا گیا۔جلسہ کی عام کارروائی کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ اب جلسہ کی کارروائی ہو چکی ہے۔اب لوگ چلے جاویں۔کچھ ہم نے پرائیویٹ باتیں کرنی ہیں۔چنانچہ سب غیر لوگ اٹھ گئے میں بھی جانے لگا مگر میرے آریہ دوست نے کہا کہ اکٹھے چلیں گے آپ ایک طرف ہو کر بیٹھ جاویں یا باہر انتظار کریں۔چنانچہ میں وہاں ایک طرف ہوکر بیٹھ گیا۔پھر ان آریوں میں سے ایک شخص اٹھا اور مجسٹریٹ کو مرزا صاحب کا نام لے کر کہنے لگا کہ یہ شخص ہمارا سخت دشمن اور ہمارے لیڈر لیکھرام کا قاتل ہے۔اب وہ آپ کے ہاتھ میں شکار ہے اور ساری قوم کی نظر آپ کی طرف ہے اگر آپ نے اس شکار کو ہاتھ سے جانے دیا تو آپ قوم کے دشمن ہوں گے اور اسی قسم کی جوش دلانے کی باتیں کیں۔اس پر مجسٹریٹ نے جواب دیا کہ میرا تو پہلے سے خیال ہے کہ ہو سکے تو نہ صرف مرزا کو بلکہ اس مقدمہ میں جتنے بھی اس کے ساتھی اور گواہ ہیں سب کو جہنم میں پہنچادوں۔مگر کیا کیا جاوے کہ مقدمہ ایسی ہوشیاری سے چلایا جارہا ہے کہ کوئی ہاتھ ڈالنے کی جگہ نہیں ملتی۔لیکن اب میں عہد کرتا ہوں کہ خواہ کچھ ہواس پہلی پیشی میں ہی عدالتی کارروائی عمل میں لے آؤں گا۔مولوی صاحب کہتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب بیان کرتے تھے کہ محمد حسین مجھ سے کہتا تھا کہ آپ یہ نہیں سمجھے ہوں گے کہ عدالتی کارروائی سے کیا مراد ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مجسٹریٹ کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ شروع یا دوران مقدمہ میں جب چاہے ملزم کو بغیر ضمانت قبول کئے گرفتار کر کے حوالات میں دے دے۔محمد حسین نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کے سلسلہ کا سخت مخالف ہوں۔مگر مجھ میں یہ بات ہے کہ میں کسی معزز خاندان کو ذلیل و بر باد ہوتے خصوصاً ہندوؤں کے ہاتھ سے ذلیل ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔اور میں جانتا ہوں کہ مرزا صاحب کا خاندان ضلع میں سب سے زیادہ معزز ہے۔پس میں نے آپ کو یہ خبر پہنچا دی ہے کہ آپ اس کا کوئی انتظام کر لیں۔اور میرے خیال میں دو تجویزیں ہو سکتی ہیں ایک تو یہ ہے کہ چیف کورٹ لاہور میں یہاں سے مقدمہ تبدیل کرانے کی کوشش کی جاوے۔اور دوسرے یہ کہ خواہ کسی طرح ہو مگر مرزا صاحب اس آئندہ پیشی میں حاضر عدالت نہ ہوں اور ڈاکٹری سرٹیفکیٹ پیش کر دیں۔مولوی صاحب نے بیان کیا کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا تو ہم سب بھی سخت خوفزدہ ہو گئے اور فیصلہ کیا کہ اسی وقت قادیان کوئی آدمی روانہ کر دیا جاوے۔جو حضرت صاحب کو یہ واقعات سنادے۔رات ہو چکی تھی ، ہم نے یکہ تلاش کیا اور گوگئی یکے موجود تھے مگر مخالفت کا اتنا جوش تھا کہ کوئی یہ نہ ملتا تھا۔ہم نے چار گنے کرایہ دینا کیا مگر کوئی یکہ والا راضی نہ ہوا۔آخر ہم نے شیخ حامد علی اور عبدالرحیم باورچی اور ایک تیسرے شخص کو قادیان پیدل روانہ کیا۔وہ صبح کی نماز کے وقت قادیان پہنچے اور حضرت صاحب سے مختصراً عرض کیا۔