اصحاب احمد (جلد 5) — Page 559
۵۶۵ پہلے بھیج دیا۔مجھے وہاں معلوم ہوا کہ آریوں نے ایک پرائیویٹ میٹنگ میں مجسٹریٹ پر زور دیا ہے کہ یہ شخص ہمارے ایک لیڈر کا قاتل ہے اس کو ضرور سزا دو اور اس کو کہا ہے کہ شکار پھنسا ہوا ہے جانے نہ پائے۔اور اس نے بھی وعدہ کر لیا ہے کہ وہ ضرور کچھ نہ کچھ کرے گا۔مجسٹریٹ کو اختیار ہے کہ فوجداری مقدمہ میں ملزم کو حوالات میں بھیج دے۔اور یہ بات عام مشہور ہو چکی تھی کہ مرزا صاحب کو حوالات میں بھیج دیا جائے گا۔خواہ ایک دن کے لئے ہی کیوں نہ ہو۔دوسرے دن حضور گورداسپور پہنچ گئے۔میں نے تمام واقعات من وعن بیان کر دئے جس وقت میں بیان کر رہا تھا حضور لیٹے ہوئے تھے۔یہ بات سن کر اٹھ بیٹھے اور اس وقت حضور کی آنکھوں میں ایک خاص بات تھی جو میں نے کبھی کسی انسان کی آنکھ میں نہیں دیکھی۔پہلے آپ کی آنکھ میں بھی نہ دیکھی تھی۔میں رات کو جنگل میں شیر کے پاس سے بھی گزرا ہوں مگر اس کی آنکھوں میں بھی وہ بات نہیں دیکھی۔جو مجھے اس وقت نظر آئی۔آپ نے فرمایاوہ کہتے ہیں شکار پھنسا ہوا ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ یہ شیر کا شکار ہے اور شیر بھی خدا کا۔وہ ہاتھ ڈالیں گے تو ان کو معلوم ہوگا۔میں نے تو اپنے ہاتھ خدا کے ہاتھ میں دے دئے ہوئے ہیں۔اور کہہ دیا ہے کہ میں تیری راہ میں ہتھکڑیاں پہنے کو بھی تیار ہوں۔مگر میں کیا کروں وہ کہتا ہے کہ تو بری ہوگا۔اور میں یقیناً بری ہو جاؤں گا۔“ اس بارہ میں آپ کی ذیل کی مفصل روایت بھی درج کی جاتی ہے۔مؤلف سیرۃ المہدی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں۔و بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت مولوی سید محمد سرورشاہ صاحب نے کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کے ساتھ مقدمہ تھا اور مجسٹریٹ نے تاریخ ڈالی ہوئی تھی اور حضرت صاحب قادیان آئے ہوئے تھے۔حضور نے تاریخ سے دو روز پہلے مجھے گورداسپور بھیجا کہ میں جا کر وہاں بعض حوالے نکال کر تیار رکھوں کیونکہ اگلی پیشی میں حوالے پیش ہونے تھے۔میرے ساتھ شیخ حامد علی اور عبدالرحیم نائی باورچی کو بھی حضور نے گورداسپور بھیج دیا۔جب ہم گورداسپور مکان پر آئے تو نیچے سے ڈا کٹر محمد اسمعیل خان صاحب مرحوم کو آواز دی کہ وہ نیچے آویں اور دروازہ کھولیں۔ڈاکٹر صاحب موصوف اس وقت مکان میں اوپر ٹھہرے ہوئے تھے۔ہمارے آواز دینے پر ڈاکٹر صاحب نے بے تاب ہو کر رونا اور چلانا شروع کر دیا۔ہم نے کئی آوازیں دیں مگر وہ اسی طرح روتے رہے۔آخر تھوڑی دیر کے بعد وہ آنسو پونچھتے ہوئے نیچے آئے۔ہم نے سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرے پاس محمد حسین منشی آیا تھا۔مولوی صاحب کہتے تھے کہ محمد حسین مذکور گورداسپور میں کسی کچہری میں محرر یا پیشکار تھا اور سلسلہ کا سخت مخالف تھا۔اور مولوی محمد حسین بٹالوی کے ملنے والوں میں سے تھا۔خیر ڈاکٹر صاحب نے بیان کیا کہ محمد حسین منشی آیا اور اس نے مجھے کہا کہ آج کل یہاں آریوں کا جلسہ ہوا ہے