اصحاب احمد (جلد 5) — Page 558
۵۶۴ نے بہت پیچ و تاب کھائے۔جب یہ بات مولوی عبد الکریم صاحب کو معلوم ہوئی تو پھر انہوں نے ایک خطبہ پڑھا۔اور اس میں حضرت مسیح موعود کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر میں غلطی کرتا ہوں تو حضور مجھے بتلائیں۔میں حضور کو نبی اور رسول مانتا ہوں۔جب جمعہ ہو چکا اور حضرت صاحب جانے لگے تو مولوی صاحب نے پیچھے سے حضرت صاحب کا کپڑا پکڑ لیا۔اور درخواست کی کہ اگر میرے اس اعتقاد میں غلطی ہے تو حضور درست فرمائیں۔میں اس وقت موجود تھا۔حضرت صاحب مڑ کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا مولوی صاحب ! ہمارا بھی یہی مذہب اور دعوی ہے جو آپ نے بیان کیا۔یہ خطبہ سن کر مولوی محمد احسن صاحب غصہ میں بھر کر واپس آئے اور مسجد مبارک کے اوپر ٹہلنے لگے اور جب مولوی عبد الکریم صاحب واپس آئے تو مولوی محمد احسن صاحب ان سے لڑنے لگے۔آواز بہت بلند ہوگئی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مکان سے نکلے اور آپ نے یہ آیت پڑھی۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرُ فَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ال“ - اه ۲۴۔امام کا وقت بہت قیمتی ہوتا ہے آپ نے مجھ مؤلف سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز باجماعت ادا کی اور بعض دوستوں سے باتیں کرنے لگے۔دوسرے بعض دوست سنتیں ادا کر نے لگے۔ان دنوں بعض اوقات مسجد مبارک میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے نمازی بیت الفکر میں کھڑے ہو جاتے تھے۔میں نے تھوڑی دیر انتظار کیا اور پھر سنتیں پڑھنے لگا۔دوسری صف میں تھا۔حضور باتوں سے فارغ ہو کر گزرنے لگے تو میں نے نماز توڑ دی۔حضور بیت الفکر سے باہر چلے گئے تو میرے پاس کے نمازی نے کہا کہ آپ نے یہ کیا کیا حضور یہ بات سن کر اندر سے واپس بیت الفکر میں تشریف لے آئے۔اور فرمایا شاہ صاحب آپ نے درست کیا۔امام کا وقت دوسرے لوگوں کی نمازوں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔اتنا کہہ کر حضور واپس تشریف لے گئے۔حضور مجھے شاہ صاحب کہہ کر مخاطب فرمایا کرتے تھے۔۲۵ - چند ولال مجسٹریٹ کا ارادہ حبس اور حضور کا فرمانا کہ میں شیر ہوں اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ میں قید ہوں آپ کا ایک مقدمہ گورداسپور میں پیش ہونے والا تھا۔آپ نے مجھے ایک دن ضروری انتظام کے لئے