اصحاب احمد (جلد 5) — Page 557
۵۶۳ ۲۱ - ہند و حضور سے حسن سلوک کی امید رکھتے تھے قادیان کے ہندوؤں پر آپ نے بہت بڑے احسان کئے مگر انہوں نے ہمیشہ آپ کو دکھ دیا۔مگر پھر بھی یہ لوگ ہمیشہ آپ سے ایسے ہی سلوک کی امید رکھتے تھے۔جس کی احمدیوں کو تھی۔-۲۲ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمال اطاعت ایک دفعہ آپ گورداسپور تشریف لے گئے۔سخت گرمی کا موسم تھا۔میں نے مکان کی چھت پر چار پائی بچھا کر بستر کر دیا۔آپ کسی ضرورت سے اوپر تشریف لے گئے تو میں نے عرض کی کہ حضور کے لئے یہاں بستر بچھایا ہے اس پر بستر کو دیکھ کر اس طرح پیچھے ہے جس طرح کوئی کسی خطرناک چیز سے خوف کھا کر پیچھے ہٹتا ہے۔اور فرمایا کہ میں ہرگز ہرگز اس جگہ سونہیں سکتا۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس چھت پر منڈیر نہ ہو اس پر نہیں سونا چاہئے۔چنانچہ حضور اند ر سو گئے حالانکہ گرمی غضب کی تھی۔ہم لوگ باری باری پنکھا ہلاتے رہے۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کو کس وقعت کی نظر سے دیکھتے تھے۔“ ۲۳- نبوت حضرت مسیح موعود حضرت مسیح موعود۔۔۔۔۔کوانہی الفاظ سے یاد کیا گیا ہے جن الفاظ سے آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک کے انبیاء و مرسلین سے خطاب کیا گیا ہے۔ایک زمانہ میں میرے دل میں ایک کھٹکا تھا۔اور وہ یہ کہ الفاظ تو وہی ہیں مگر حضرت صاحب ان کے ساتھ قیود لگاتے ہیں۔جب میں یہاں قادیان آیا تو یہاں پر مولوی عبد اللہ کشمیری جو میرے دوست اور شاگرد تھے میں نے ان سے کہا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ لوگ سمجھتے نہیں اس لئے ان کو سمجھانے کے لئے یہ الفاظ ہیں والا حضرت مسیح موعود نبی ہیں اور پھر مولوی عبدالکریم صاحب سے ملاقات کی۔ان سے عرض کیا تو انہوں نے کہا کہ میں تو آپ کو مولوی خیال کرتا تھا آپ بھی عوام کی سی باتیں کرتے ہیں۔حضرت صاحب نبی ہیں یہ محض لوگوں کے سمجھانے کے لئے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔اس کے بعد مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک خطبہ پڑھا اور اس میں حضرت صاحب کے لئے نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کئے۔یہ خطبہ چھپ کر شائع ہو چکا ہے۔اس خطبہ کو سن کر سید محمد احسن صاحب امروہی