اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 556 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 556

۵۶۲ - اولاد کی خواہش کس حالت میں ہونی چاہئے محترمہ سیدہ ام طاہر صاحبہ کا نکاح حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدصاحب ( خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) کے ساتھ پڑھتے وقت حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب نے بیان کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان مبارک سے میں نے خود یہ الفاظ سنے ہیں۔ایک شخص نے آکر بڑے الحاح سے عرض کی کہ میرے کوئی اولاد نہیں۔حضور دعا کریں کہ اولادہو۔اس پر حضور نے تقریر فرمائی اور بتایا کہ اولاد کیا ہوتی ہے۔آدمی کی جانشین اور قائم مقام ہوتی ہے اور جیسا کہ آتا ہے۔الولد سر لابیه ۵۰ اولا د باپ کے خواص کے نمونہ کو ظاہر کرنے والی ہوتی ہے۔وہ چیزیں جن کا شخصی قیام نہیں ہوسکتا۔ان کا انہی باتوں میں جوان میں پائی جاتی ہیں جو قائم مقام ہو اس کو ولد کہتے ہیں۔اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ عیسائی حضرت مسیح کو خدا کا ولد کہ کر غلطی کرتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ فنا نہیں ہوتا۔اس لئے اسے ولد کی بھی ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اولاد کا یہ مفہوم ہے کہ وہ باپ کی صفات اور خصائل کو ظاہر کرنے والی ہو۔پس جب کوئی شخص اولا دطلب کرے تو اس کو یہ دیکھنا چاہئے کہ اس میں کوئی ایسی صفات ہیں جن کو وہ پیچھے چھوڑ نا چاہتا ہے۔اگر ہیں تو اس کا اولاد کی خواہش کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن اگر اس میں شرارت اور بدی کے سوا کچھ نہیں تو وہ کیوں اولاد کے ذریعہ شر اور بدی پھیلانا چاہتا ہے۔۲۰۔حسن اور رعب حسن اور رعب دو متضاد باتیں ہیں اور ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یہ دونوں باتیں موجود تھیں۔آپ کے دشمن آپ سے کانپتے تھے اور دوست فدا تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں بھی یہ دونوں باتیں پائی جاتی تھیں۔بڑے آدمی عموماً اپنے غریب ماں باپ سے بھی بیگانگی برتتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ طریق تھا کہ آپ اپنے معمولی خدام سے بھی نہایت محبت اور شفقت سے گفتگو فرماتے تھے۔اور بعض اوقات ایسی معمولی باتیں پوچھتے تھے کہ ہم حیران ہو جاتے تھے۔ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں میری بیوی سے پوچھا کہ شاہ صاحب روزے رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ سارے رکھے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ ہم تو نہیں رکھ سکے تین چار چھوٹ گئے ہیں۔غرضیکہ آپ اپنے خدام سے بھی نہایت پیار کی باتیں کرتے تھے۔اور ہم نے کسی شخص کو ایسا نہیں دیکھا کہ دشمن بھی اس سے دوستوں جیسے سلوک کی ہی امید رکھیں۔