اصحاب احمد (جلد 5) — Page 551
۵۵۷ ہو تو آپ کو اختیار ہے چنانچہ میں کچھ عرصہ یہاں ٹھہرا رہا۔اور پھر بیعت سے مشرف ہو کر چلا گیا۔جب میں نے بیعت کی درخواست کی تو حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ کیا آپ کو اطمینان ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حضور آپ کی صداقت کے متعلق تو مجھے کبھی بھی شک نہیں ہوا۔ہاں ایک خلش تھی سو وہ بھی بڑی حد تک خدا نے دور فرما دی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے مجھ سے یہ بیان کیا تھا کہ بعض لوگوں نے ان کے سامنے بھی بعض اوقات حضرت صاحب کے متعلق اسی قسم کے خیال کا اظہار کیا تھا کہ آپ کی صداقت کے دلائل تو لا جواب ہیں اور آپ کی بزرگی بھی اظہر من الشمس ہے لیکن جواثر اہل اللہ کی صحبت کا سنا جاتا ہے وہ محسوس نہیں ہوتا۔چونکہ ممکن ہے اسی قسم کے خیالات بعض اور لوگوں کے دلوں میں بھی پیدا ہوئے ہیں اس لئے اپنے علم کے مطابق خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ خیال دو وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور یہ کوئی نیا خیال نہیں ہے۔بلکہ ہمیشہ سے انبیاء ومرسلین کے زمانہ میں بعض لوگوں کے اندر پیدا ہوتا چلا آیا ہے۔دراصل اگر غور سے دیکھا جاوے تو انبیاء کے متعلق لوگوں کے چار گروہ ہو جاتے ہیں۔اول وہ منکرین جو نہ انبیاء کے دعوی کی صداقت کو مانتے ہیں اور نہ ان کی ذاتی بزرگی اور روحانی اثر کے قائل ہوتے ہیں۔دوسرے وہ منکرین جو بوجہ میل ملاقات اور ذاتی تعلقات کے انبیاء کی بزرگی اور ان کے روحانی اثر کے تو ایک حد تک قائل ہوتے ہیں لیکن پرانے رسمی عقائد کی بناء پر دعوی کی صداقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اس لئے منکر رہتے ہیں تیسرے وہ مصدقین اور ماننے والے جن پر انبیاء کے دعوی کی صداقت بھی روشن و ظاہر ہوتی ہے اور ان کے روحانی اثر کو بھی وہ علی قدر مراتب محسوس کرتے اور اس سے متمتع ہوتے ہیں اور چوتھے وہ مصدقین جوان کے دعوی کی صداقت کو تو دل سے تسلیم کرتے ہیں اور عمومی رنگ ہیں ان کی بزرگی کو بھی مانتے ہیں اور اس لئے بالعموم ان کی جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں لیکن اپنے اندر کوئی روحانی اثر محسوس نہیں کرتے اور اسی لئے اس جہت سے کچھ شکوک میں مبتلا رہتے ہیں۔اس جگہ ہمیں چوتھے گروہ سے کام ہے۔جوصداقت کا تو قائل ہوتا ہے اور بزرگی کو بھی تسلیم کرتا ہے لیکن اپنے اندر روحانی اثر جیسا کہ چاہتا ہے محسوس نہیں کرتا۔سو جانا چاہئے کہ بعض اوقات اپنی غفلتوں اور کمزوریوں کی وجہ سے انسانی روح کے وہ دروازے اور کھڑکیاں جن میں سے کسی بیرونی روح کا اثر ان تک پہنچ سکتا ہے بند ہو جاتی ہیں۔اور اس لئے وہ فیضان جوان تک پہنچ سکتا تھا ان تک پہنچنے سے رکا رہتا ہے اور بعض وقت غفلت ایسی غالب ہوتی ہے کہ انسان یہ خیال نہیں کرتا کہ خود میری کھڑکیاں اور دروازے بند ہیں بلکہ یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ باہر سے روشنی ہی نہیں آ رہی ہے اور اس طرح بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرنے کے منبع فیض رسانی پر جو حرف گیری کرنے لگ جاتا ہے۔حالانکہ ایسے وقت میں چاہئے کہ انسان