اصحاب احمد (جلد 5) — Page 540
۵۴۶ سفر میں سوا مغرب کی نماز کے اور سب نمازیں دو رکعت پڑھتے ہیں اور سنتیں نہیں پڑھتے ہاں وتر پڑھتے ہیں۔اور سفر میں اکثر اوقات ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے ہیں یعنی ایک ہی وقت میں پہلے ایک اور پھر دوسری نماز پڑھ لیتے ہیں۔اور جب جمع کرتے ہیں تو اذان ایک ہی ہوتی ہے۔اور اقامت دو دفعہ اور کبھی سخت بارش یا بیماری کی وجہ سے بھی جمع کرتے ہیں۔جیسی سفر میں جمع کرتے ہیں اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا ( یعنی اذان واقامت اور ایک نماز کے وقت میں دونوں نمازیں پڑھنے کے لحاظ سے ورنہ حضر میں جمع صلوتین کی صورت میں چار رکعتوں والی نمازوں کی چار ہی رکعتیں پڑھتے ہیں نہ کہ دو۔مؤلف ) سفر میں بارہا ایسا اتفاق ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود بہت دن ایک مقام پر رہے ہیں۔اور حضرت سے دریافت کرتے رہے ہیں کہ سفری نمازیں پڑھیں یا پوری تو حضور نے فرمایا کہ چونکہ ہمارا خو د ر ہنے کا مصمم ارادہ نہیں تو ایسے تردد کی حالت میں خواہ بہت دن رہیں تو بھی قصر یعنی سفری نماز پڑھنی چاہئے۔حد سفر کی نسبت بہت دفعہ سوال ہوا ہے تو حضور نے یہی فرمایا ہے کہ شریعت میں کوئی حد مقرر نہیں جس کو عرف عام میں سفر کہا جاتا ہے۔اس میں قصر کرنا چاہئے۔چنانچہ حضور کا معمول یہی دیکھا ہے کہ گورداسپور ، بٹالہ کو جب تشریف لے جاتے ہیں تو سفری نماز پڑھتے ہیں وتروں کی نسبت بہت سوال ہوتا رہتا ہے کہ ایک پڑھا جائے یا تین اور یہ بھی کہ اگر تین ہوں تو پھر کس طرح پڑھے جائیں تو ان میں حضور کا حکم یہ ہے کہ ایک رکعت تو منع ہے اور تین اس طور پر پڑھتے ہیں کہ دور کعتوں کے بعد التحیات پڑھ کر سلام پھیر دیتے ہیں اور پھر اٹھ کر ایک رکعت پڑھتے ہیں اور کبھی دو کے بعد التحیات پڑھتے ہیں اور سلام پھیرنے سے پہلے اٹھ کر تیسری رکعت پڑھتے ہیں۔-۴ نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنے کے متعلق حدیث حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رقم فرماتے ہیں۔و بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی سیدمحمد سرور شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے پاس کسی کا خط آیا کہ کیا نماز میں ناف سے اوپر ہاتھ باندھنے کے بارے میں کوئی صحیح حدیث بھی ملتی ہے؟ حضرت مولوی صاحب نے یہ خط حضرت صاحب کے سامنے پیش کیا اور عرض کیا کہ اس بارہ میں جو حدیثیں ملتی ہیں وہ جرح سے خالی نہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا مولوی صاحب آپ تلاش کریں ضرور مل جائے گی کیونکہ باوجود اس کے کہ شروع عمر میں بھی ہمارے اردگر دسب حنفی تھے مجھے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا کبھی پسند نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ طبیعت کا میلان ناف سے اوپر ہاتھ باندھنے کی طرف رہا ہے۔اور ہم نے بار ہا تجربہ کیا ہے کہ جس بات کی طرف ہماری طبیعت کا میلان ہو وہ تلاش کرنے سے ضرور حدیث میں نکل آتی ہے۔خواہ ہم کو پہلے اس