اصحاب احمد (جلد 5) — Page 531
۵۳۶ افسوس ہے کہ مولوی سید محمد احسن صاحب لخت جگر مسیح موعود محمود علیہما السلام کا مقام محمود دیکھ کر اور علیٰ رءُوس الاشهاد لوگوں کو دکھلا کر اور سورہ نور کی آیت استخلاف کے مطابق مسجد نور قادیان میں بیعت کر کے بھی اپنی کمزوری اور غیر معمولی بڑھاپے کی وجہ سے اس پر علی الاعلان ثابت قدم نہ رہ سکے۔مگر مسیح محمدی علیہ السلام کے شیر حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ نے صدق و وفا اور محبت و رضا کا وہ شاندار نمونہ دکھلایا جس کی ایک عارف باللہ سے توقع رکھی جاتی ہے۔فَطُوبىٰ لَكَ يَا سَرُ وَرُشَاهُ! (۱۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وصیت ( رسالہ الوصیت ) میں تحریر فرمایا ہے کہ مقبرہ بہشتی قادیان میں صرف بہشتی ہی دفن ہوں گے اور کوئی منافق یا نا قص الایمان بعد موت اس میں ہرگز داخل نہیں ہو سکے گا۔صرف وہی پاک لوگ اس میں جگہ پائیں گے۔جو خدا تعالیٰ اور اس کے مرسل مسیح موعود پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔اور پاک وصاف مسلمان ہیں۔ہمارے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ایک لمبا عرصہ تک بہشتی مقبرہ قادیان کے سیکرٹری رہے۔اور ایسے وقت میں جبکہ سرزمین ہند میں ایک قیامت برپا ہونے کے قریب تھی۔اور رشتہ دار اور دوست اور اہل وطن ایک دوسرے سے ایسے طور پر جدا ہونے والے تھے کہ گویا دونوں کے درمیان ایک سمند ر یا سد سکندری حائل ہو گیا ہے۔اس وقت آپ اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اور ان سے قبل حضرت میر محمد اسحق صاحب ( رضی اللہ عنہم ) جن کے متعلق غیر مبایعین کے دلوں اور تحریروں میں خاص طور پر بد گمانیاں تھیں۔یکے بعد دیگرے خلاف توقع اپنے مولی حقیقی کی طرف انتقال کر گئے۔اور بہشتی مقبرہ قادیان میں اپنے محبوب مرشد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب خاص صحابہ کرام میں جگہ پائی اور قیامت تک آنے والے احمدیوں کی خاص دعاؤں سے انشاء اللہ تعالیٰ حصہ پاتے رہیں گے۔اور احمدیت کی آنے والی نسلیں ان کے صدق و ثبات محبت و وفا ، زہدو تقاء کو دیکھ کر اپنے ایمان تازہ کرتی رہیں گی کہ یہی کامل الایمان لوگوں کے بعد وفات بھی ایک جگہ جمع کرنے کا مقصد ہے۔وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَّشَاء وَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ - خلاصہ کلام یہ کہ ہمارے محسن اور سب سے بڑے استاد حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ نسب کے لحاظ سے بھی سید آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حسب کے لحاظ سے بھی سید، علامہ زمان ،سب کے ہمدرد انسان ، عارف باللہ اور مجسم نیکی و احسان اور ہمہ تن زہد و انتقاء تھے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور آپ کی جو امید میں اور توقعات ہمارے ساتھ وابستہ تھیں۔اللہ تعالیٰ ان کی