اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 520 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 520

۵۲۵ محمد سرورشاہ صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے تو آپ کی جگہ محترم صاحبزادہ میرزا ناصر احمد صاحب جامعہ احمدیہ کے پرنسپل مقرر ہوئے۔اس موقع پر حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ کے اعزاز میں جو الوداعی تقریب جامعہ احمدیہ میں منعقد ہوئی۔اس کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ حضرت مولوی صاحب حضرت صاحبزادہ صاحب کے اس تقرر سے بہت خوش ہوئے اور آپ نے فرمایا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ میری جگہ صاحبزادہ میرزا ناصر احمد صاحب جامعہ احمدیہ کے پرنسپل مقرر ہور ہے ہیں۔آپ کی زندگی درویشانہ تھی۔نام ونمود، عجب وریاء یا خود پسندی وتکبر۔جو بہت بڑے علم کی ایک لازمی صفت سمجھی جاتی ہے۔آپ میں ہرگز نہ تھا۔ستی اور کاہلی آپ کے پاس تک نہ پھٹکتی تھی۔پانچوں نمازیں مسجد مبارک میں ادا فرماتے تھے۔مینہ ہو آندھی ہو ، اندھیری رات ہو ، سخت دھوپ ہو،جلسہ ہو،جلوس ہو،مشاعرہ ہو، مناظرہ ہو، عام تعطیل ہو یا خاص آپ نماز کھڑی ہونے سے بہت دیر پہلے اپنے مقررہ وقت پر اپنی مقررہ جگہ پر موجود ہوتے تھے۔-۷ آپ کی نمازوں میں جو خشوع و خضوع ہوتا تھا اس کو وہی لوگ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔جو اس کو چہ یار ازل سے کچھ آشنائی رکھتے ہوں۔فجر کی نماز میں مسجد مبارک میں ( جب کبھی آپ کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی طرف سے نماز پڑھانے کا حکم ہوتا ) آپ پہلی رکعت میں سورۃ اعراف کی پانچ آیات (إِنَّ رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ قَفَ يُخْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيئًا وَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنَّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِاَمْرِهِ - أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْآمُرُ ط تَبْرَكَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ - اُدْعُوا رَبَّكُمْ تُضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ۔كَذلِكَ نُصَرِفَ الْآیتِ لِقَوْمٍ يَشْكُرُونَ - کی ایسے انداز سے تلاوت فرماتے تھے کہ میرے کان اس پاک کتاب کی پاک آیات کی اس بے نظیر تلاوت کو سننے کے لئے آج بھی باوجود تقریبا تمیں سال گزر جانے کے اسی طرح بے تاب ہیں جیسے زمانہ اقامت قادیان دارالامان میں تھے۔جو انسانی روح کو زمین سے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دے اور پھر عرش الہی کے سامنے۔اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً کا اعلان کرتے ہوئے سجدہ کرا دے۔اور شکر گزار بنا کر در بارالہی سے واپس لائے۔دوسری رکعت میں بھی کچھ ایسی ہی آیات کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔جو مجھے اب یاد نہیں رہیں ممکن ہے آپ کے کوئی اور محبت یا در کھتے ہوں۔