اصحاب احمد (جلد 5) — Page 482
۴۸۷ ناچیز راقم کا ایک ذاتی واقعہ ہے جو کبھی فراموش نہیں ہوتا بلکہ حضرت مولانا مرحوم کی پیاری یاد کو ہمیشہ تازہ رکھتا ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جن دنوں خاکسار جامعہ احمدیہ کی مبلغین کلاس میں پڑھتا تھا۔نا چیز راقم کی شادی کا موقع آگیا۔جمعہ کے دن پچھلے پہر برات کی روانگی کا پروگرام تھا اور چونکہ برات قادیان سے باہر مقام سٹھیالی جانے والی تھی۔اس لئے وہاں رات بھر قیام کے بعد دوسرے دن ہی وا پسی ہوسکتی تھی۔مجھے اور میرے دوست نواز ہم کلاس احباب ( بارک اللہ فی حیاتہم) کو ایک عرصہ سے اس دن کا انتظار تھا۔چنانچہ اس تقریب کے لئے کئی پروگرام بنے بدلے اور طے ہوئے۔مگر عین وقت پر ہماری خوشیاں ٹھر کر رہ گئیں جب یہ اعلان ہوا کہ شنبہ کو جامعہ احمدیہ کے امتحانات شروع ہورہے ہیں۔آخر یہ طے ہوا کہ جمعہ کے روز عصر کی نماز کے بعد برات کی روانگی عمل میں آئے اور میرے ہم جماعت احباب سائیکلیں ساتھ لے لیں۔رات بھر سٹھیالی میں رہیں اور دوسرے دن صبح سویرے قادیان آجائیں اور امتحان کا پرچہ دے کر دو پہر تک پھر سٹھیالی پہنچ جائیں اور پھر اسی روز شام کو برات کے ساتھ واپس قادیان چلے آئیں۔بایں ہمہ اور یہ افراتفری سب کو نا گوار تھی۔جمعہ کی نماز کے بعد نا چیز راقم مسجد اقصیٰ میں منارۃ مسیح کے چبوترے کے پاس کھڑا اپنے دوستوں کا انتظار کر رہا تھا کہ حضرت مولانا مرحوم کو نماز کے بعد گھر واپس جاتے ہوئے اپنی طرف آتے دیکھا۔مرحوم نے میرے سلام کا جواب دیا اور ساتھ ہی مسکرا کر پوچھا۔آج آپ کی شادی ہے؟ میں نے اداس لہجے میں عرض کیا کہ حضرت شادی تو ضرور ہے مگر بدمزہ سی۔فرمایا کیوں؟ عرض کیا کہ چونکہ کل سے جامعہ احمدیہ میں امتحان شروع ہو رہے ہیں اس لئے میرے ہم جماعت دوستوں کے لئے برات میں شامل ہونا گویا ناممکن ہے۔ورنہ پروگرام تو یہ تھا کہ ہم سب اکٹھے جاتے اور ا کٹھے آتے۔سن کر مسکرائے اور فرمایا۔کوئی کاغذ ہے آپ کے پاس؟ میں نے فوراً کاغذ اور قلم پیش کر دیا۔آپ نے اسی وقت بذریعہ تحریر خاص امتحان ملتوی کر دیا اور فرمایا کہ یہ خط جامعہ احمدیہ کے دفتر میں پہنچا دیا جائے اور آپ طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنے دوستوں کو برات میں ساتھ لے جائیں۔پھر کیا تھا میرے دوست نچنت اور بے فکر ہوکر اس تقریب میں شامل ہوئے۔یہ تھا نمونہ حضرت مولانا مرحوم کی شفقت اور ذرہ نوازی کا اور مجھے تو گویا آپ نے خرید لیا اور اگر چہ اس واقعہ پر کم و بیش تمیں برس گزر چکے ہیں۔مگر میرے دل و دماغ میں اس کی یاد ایسی تازہ ہے کہ گویا کل کی بات ہے۔