اصحاب احمد (جلد 5) — Page 473
عیسائی انجمن نے مباحثہ کرایا تھا اس کے ممبروں نے بھی کہا کہ پادری صاحب سے کچھ بن نہیں آیا اور پادری صاحب نے ہمیں بدنام کیا ہے لیکن باوجود اس کے مصری صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب نے مناظرہ میں زک اٹھائی ہے اور ٹھیک طور پر مباحثہ نہیں کیا۔میں مصری صاحب سے ہمیشہ حسن سلوک سے پیش آتا تھا۔مفتی فضل الرحمن صاحب مرحوم سال ٹاؤن کمیٹی کا ممبر بننا چاہتے تھے اور میرے رشتہ دار بھی تھے لیکن میں نے حسن سلوک کی خاطر مصری صاحب کا نام پیش کیا اور میری وجہ سے وہ منتخب ہو گئے۔مصری صاحب نے دارالانوار اور دار البرکات شرقی کے درمیان ایک کوٹھی میں رہائش اختیار کر لی تھی۔میں ان کے بچوں کے بیمار ہونے پر عیادت کے لئے شہر سے اتنی دور جا تا لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔( خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ ہمیں بھی طالب علمی میں اس امر کا علم ہوتا تھا کہ مصری صاحب کی طرف سے آپ کی شدید مخالفت کی جاتی ہے لیکن آپ کی طرف سے طلباء میں کبھی کسی بات کا اظہار نہیں ہوتا تھا ) میرے پاس مولوی سلیم اللہ صاحب رہتے تھے۔ایک دن مصری صاحب فٹ بال گراؤنڈ کے پول میرے ہاں پڑے ہوئے دیکھ کر میرے مکان کے اندر آگئے اور کہا کہ یہ چوری کے ہیں گویا مجھ پر چوری کا الزام لگایا۔چونکہ قرآن مجید میں ارشاد الہی ہے کہ اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَانَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ۔اسے میں نے سوچا کہ میں نے تو اس پر عمل کیا ہے لیکن مصری صاحب پر ذرا بھر اثر نہیں ہوا۔معلوم ہوتا ہے کہ ان میں کوئی گہر انقص ہے اس لئے بغیر کسی خواب کے آنے کے ( گویا مومنانہ فراست سے ) میں نے مصری صاحب کے اخراج سے چھ سال قبل انہیں چوری کا الزام لگانے پر کہا کہ یہ چوری ہوتی تو پول ایسی جگہ کیوں رکھے جاتے کہ آپ باہر سے دیکھ کر اندر آجائیں اور مولوی سلیم اللہ صاحب فٹ بال ٹیم کے کیپٹن ہیں یہ ان کی تحویل میں ہیں لیکن مصری صاحب میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ آپ قادیان میں نہیں رہیں گے بلکہ قادیان سے نکال دئے جائیں گے۔چنانچہ جب مصری صاحب کو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت سے نکال دیا تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت میر محمد الحق صاحب مرحوم اور مجھے حضور نے بلوایا اور مصری صاحب کے تین خطوط دکھائے جو مصری صاحب نے حضور کو لکھے تھے اور حضور نے جو جواب لکھا تھا وہ بھی بتایا اور فرمایا کہ جو لوگ ایسے ہوتے تھے ان کے متعلق ہمیشہ قبل از وقت پتہ لگ جاتا رہا ہے لیکن صرف مصری صاحب ہی ایک ایسے شخص ہیں کہ جن کے متعلق مجھے قبل از وقت علم نہیں ہوا اور اب خود انہی کے خطوط سے مجھے علم ہوا ہے۔