اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 456 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 456

۴۶۱ حضور کی ڈاک کی خدمت ان ایام میں میرے سپر دتھی۔اس واسطے ان درخواستوں پر چند الفاظ لکھ کر 66 بقیہ حاشیہ: - مرجائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے۔لیکن انہوں نے کبھی بھی دعوت مقابلہ قبول نہ کی۔جس کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے: (1) اس سے پہلے بشمول مولوی ثناء اللہ صاحب علماء وغیرہ کو حضور آخری فیصلہ کی دعوت دے چکے تھے (انجام آتھم صفحہ ۱۶۵) لیکن اس نے جواب نہ دیا۔اب جو حضور نے اعجاز احمدی میں لکھا کہ مولوی ثناء اللہ امرت سری کی دستخطی تحریر میں نے دیکھی ہے جس میں وہ یہ درخواست کرتا ہے کہ میں اس طور سے فیصلہ کے لئے بدل خواہش مند ہوں کہ فریقین یعنی میں اور وہ یہ دعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے وہ بچے کی زندگی میں ہی مرجائے۔“ (صفحہ ۱۴) 66 اگر وہ اس چیلنج پر مستعد ہوئے کہ کاذب صادق کے پہلے مرجائے تو وہ ضرور پہلے مریں گے۔“ ( صفحہ ۳۷ ) لیکن مولوی صاحب نے لکھا چونکہ یہ خاکسار نہ واقعہ میں ، نہ آپ کی طرح نبی یا رسول یا ابن اللہ یا الہامی ہے اس لئے ایسے مقابلہ کی جرات نہیں کر سکتا لیکن افسوس کرتا ہوں کہ مجھے ان باتوں پر جرات نہیں۔“ ( الہامات مرزا۔صفحہ ۸۵ طبع دوم - صفحہ اطبع ششم ) (ب) اس پر مولوی ثناء اللہ صاحب پر لعن طعن ہوئی لازمی تھی۔اس نے پھر آمادگی کا اظہار کیا اور لکھا میں اب بھی ایسے مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔جو آیت مرقومہ سے ثابت ہوتا ہے جسے مرزا صاحب نے خود تسلیم کیا ہے۔“ ( اہلحدیث ۰۶-۶-۲۲ صفحه ۱۴) مرزائیو! بچے ہو تو آؤ اور اپنے گرو کو ساتھ لاؤ جب تک پیغمبر جی سے فیصلہ نہ ہو۔سب امت کے لئے کافی نہیں ہو سکتا۔“ ( ۰۷-۳-۲۹ صفحہ ۱۰) مؤخر الذکر تحریر سے قبل حضوڑا اپنی زیرتصنیف حقیقتہ الوحی میں تحریر فرما چکے تھے کہ میں بخوشی قبول کروں گا اگر وہ مجھ سے درخواست مباہلہ کریں۔۲۴۴ بدر ۰۷-۴-۴ کے ذریعہ بھی اعلان کیا گیا کہ حضور نے یہ چیلنج منظور کر لیا ہے۔بے شک قسم کھا کر بیان کرو کہ مسیح موعود اپنے دعوی میں جھوٹا ہے اور اگر میں جھوٹا ہوں تو لعنة الله علی الکاذبین۔اسی آیت قرآنی پر مباہلہ کی بنیاد ہے۔اور اس میں لعنۃ اللہ علی الکاذبین آیا ہے۔(ج) لیکن مولوی ثناء اللہ صاحب نے پھر فرار کیا اور لکھا:۔