اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 451 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 451

۴۵۶ ۱۹۰۷ ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اب سلسلہ کا کام بڑھ رہا ہے۔اس بات بقیہ حاشیہ: اس پر پل پڑتے ہیں اور چٹ کر جاتے ہیں۔یہی حال ثناء اللہ کا تھا کہ اپنے اہل فرقہ کے صاحب تقویٰ اور علم وفضل افراد کے خلاف ساری عمر لٹھ لئے پھرا اور اتفاق و اتحاد کو پارہ پارہ کئے رکھا۔نیز چیختے چلاتے اور اپنے ان افراد کے خلاف شکوے ہی کرتے اس کی عمر گزری۔اس کی آواز اپنے رفقاء میں بھی مغلوب ہی رہی۔کبھی اس کے خلاف کسی جگہ سماعت ہوتی۔کبھی کسی جگہ اس کی تفسیر پر نکتہ چینی ہوتی۔وہ حق بات کہنے سے ہمیشہ متامل رہا۔شیر جیسی جرات سے عدم قبول حق کے باعث وہ محروم تھا۔فیصله ونشان نمبر ۱۵ حضور فرماتے ہیں۔اگر میرے معجزات اور پیشگوئیاں ان کے نزدیک صحیح نہیں تو ان کو تمام انبیاء علیہم السلام سے انکار کرنا پڑے گا اور آخر ان کی موت کفر پر ہوگی۔“ (صفحہ ۱) یہ تو ظاہر ہے کہ تمام انبیاء پر ایمان لانے والا کا فرنہیں ہوتا۔اور ایک نبی کا کفر بھی قرآن مجید کی رو سے تمام انبیاء کا کفر قرار دیا گیا ہے۔یہ امر ثابت ہے کہ انہوں نے حضور کے معجزات اور پیشگوئیوں کو تا دم آخر صیح نہیں سمجھا۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان کی موت کفر پر ہوئی۔ضرور ہوگی کیونکہ حضرت مرزا صاحب ایک عظیم الشان مامور کی تکفیر وانکار پر مولوی ثناء اللہ کی موت ہوئی۔دوم۔خود مولوی صاحب کے اہل فرقہ علماء ہند و نجد نے ان کی تکفیر کی اور تکفیر کرنے والوں نے اپنے فتاویٰ کی کبھی تردید نہیں کی۔سوم۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مولوی ثناء اللہ صاحب کے استاد کے استاد تھے۔اور ان کو فرقہ اہلحدیث صاحب زہد و تقاء اور صاحب علم و فضل تسلیم کرتا ہے اور مولوی ثناء اللہ صاحب کو بھی یہ سب کچھ تسلیم تھا تبھی انہوں نے بٹالہ پہنچ کر ان کا جنازہ پڑھا ( دیکھیئے سیرۃ ثنائی صفحہ ۳۷۲ حاشیہ ) مولوی محمد حسین صاحب حضرت مسیح موعود پر فتولی کفر عائد کرنے والوں کے بانی تھے لیکن بالآخر انہوں نے اس سے رجوع کیا اور ۱۹۱۲ء میں ایک عدالت میں جماعت احمدیہ کے مسلمان ہونے کا اقرار کیا۔کا اب دوصورتیں ہیں یا تو مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے استاد کے استاد گویا روحانی علمی دادا کے فتویٰ سے