اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 24 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 24

۲۴ یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ وہاں طلباء کے دو قسم کے گزارے تھے۔ایک تو یہ طالب علموں کی ایک تعداد کو فی کس چھ روپئے کھانے کے واسطے دئے جاتے تھے۔دوسرے یہ کہ ایک سو کے قریب کھانے لوگوں کے ہاں مقرر تھے۔بعض شہری دو تین طالب علموں کونوں وقت کھانا دیتے تھے۔دفتر میں ریکارڈ رہتا تھا اور دفتر والے ہی مقرر کرتے تھے کہ فلاں لڑکا فلاں کے ہاں کھانا کھائے۔بعض طالب علم ایسے بھی تھے کہ ایک ایک وقت کا کھانا مختلف گھروں سے کھا کر گزارہ کرتے تھے۔طلباء کی کوشش ہوتی تھی کہ نقد وظیفہ مل جائے۔اس لئے کہ دیو بند میں بہت سی ایسی مساجد تھیں کہ جن میں کوئی امام مقرر نہیں ہوتا تھا بلکہ لوگ مدرسہ کے کسی طالب علم کو امام بنا لیتے تھے اور اماموں کی طرح خدمت کرتے تھے کہ ان کا نقد وظیفہ مقرر ہو۔اس لئے کہ کھانا تو مسجد کی طرف سے مل ہی جائے گا اور نقدی مفت میں بچے گی۔دفتر والے اس امر سے واقف تھے اور جس پر وہ خوش ہوتے تھے بطور احسان نقد وظیفہ دینے کی نوازش کرتے تھے۔آپ کے ایک ماہ وہاں رہنے سے دفتر کا ہیڈ آپ کا بہت معتقد ہو گیا اور اچھی محبت کرنے لگا۔رمضان کے بعد جب داخلہ کے امتحان میں آپ پاس ہو گئے تو اس نے خوشی خوشی آ کر آپ کو سنایا کہ میں نے آپ کا وظیفہ نقد درج کر دیا ہے چونکہ ان وظائف میں بہت سا روپیہ زکوۃ اور صدقات کا ہوتا ہے جسے آپ اپنے لئے حرام سمجھتے تھے۔اس لئے آپ نے کہا کہ میں نہیں لوں گا۔اس بات سے وہ بہت رنجیدہ ہوا کہ میں نے احسان کیا یہ انکار کرتا ہے۔پھر اس نے خود تو نہ کہا لیکن اطلاع بھیجی کہ آپ کا کھانا مقرر کر دیا گیا ہے۔وہ خود لا کر دے جایا کریں گے۔کھانا آپ کے لئے قریباً سال بھر آتا رہا مگر ہمیشہ اس روٹی میں چار چیزیں ہوتی تھیں ایک تو نہایت ناقص قسم کے چاولوں کا آٹا جس میں بعض اوقات دھان کے چھلکے بھی ہوتے تھے ، دوم چنوں کا کچھ آٹا، تیسرے ماش یا مونگی کا کچھ حصہ کہ جس کے چھلکے بھی اس میں شامل ہوتے تھے۔چوتھے باجرہ یا جوار وغیرہ جسے پہچان نہیں سکے۔جوتر کاری ہوتی تھی وہ آموں کا پانی ہوا کرتا تھا جسے یوپی کے لوگ بکثرت استعمال کرتے ہیں۔آپ کو اس کھانے کی کبھی ضرورت نہیں پڑی۔اللہ تعالیٰ نے یہ سامان کر دیا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری جو آپ سے پہلے وہاں پڑھتے تھے اور رمضان کی تعطیلات میں گئے ہوئے تھے آپ کے چند روز بعد آگئے اور انہوں نے طلباء کے سامنے بیان کیا کہ آپ صرف و نحو اور منطق و فلسفہ کے بہت ماہر ہیں۔اس کا اثر یہ ہوا کہ رمضان میں ہی بعض نے آپ سے پڑھنا شروع کر دیا اور رمضان کے بعد مدرسہ کھلنے پر اساتذہ نے صرف ونحو اور منطق پڑھانے کے لئے ایک جماعت آپ کے سپرد کر دی کہ جس میں اساتذہ کے رشتہ دار اور دوسرے لڑکے شامل تھے۔آپ کے شاگردوں میں سے ایک سید تھے اور مدراس کے رہنے والے اور دولتمند گھرانے کے تھے۔دو