اصحاب احمد (جلد 5) — Page 444
۴۴۹ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ چونکہ آدمی بہت ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ کسی کی ضرورت کا علم ( عملہ کو ) نہ ہو۔بقیہ حاشیہ: - بجھے ہوئے اس قدر کانٹے بور کھے تھے۔جن کو مردانہ وار کا ٹنا صرف آپ ہی کا کام تھا۔ہندوستان کے کفار و مشرکین کی تقلید میں اپنا دین و ایمان برباد کر لیا تھا۔اگر مولا نا مامور نہ ہوتے تو اسلامیان ہند و پاک کا مقدس مذہب کبھی کا مٹ چکا ہوتا۔“ (صفحہ ۱۲) (ح) اخویم مولوی غلام باری صاحب سیف پروفیسر جامعہ احمدیہ اور اخویم چوہدری محمد صدیق صاحب لائبریرین خلافت لائبریری سناتے ہیں کہ ۱۹۴۴ء کے مصلح موعود کے جلسہ سے دہلی سے واپسی پر ہم نے امرتسر میں مولوی ثناء اللہ صاحب سے ملاقات کی۔اور سیف صاحب نے دریافت کیا کہ کیا آپ کو کبھی سچی خواب آئی تو کہا کہ المؤمن یرای و یرای له ایک شخص کو خواب آئی تھی کہ فلاں مسئلہ ثناء اللہ سے پوچھ لو۔لیکن اپنی کوئی خواب نہیں سنائی۔اتنے میں مولوی صاحب کا ایک پوتا آیا اور اس نے نہایت سختی سے ہمیں نکل جانے کو کہا اور مولوی صاحب کے منع کرنے پر بھی منع نہ ہوا۔اس کے سیرت نگار نے یہ کہہ کر مولوی صاحب کے تقویٰ کا بھانڈہ چوراہے میں پھوڑ دیا ہے کہ:۔حاصل کلام یہ کہ مرحوم نے دین و دنیا میں جو بھی نام پا یا مال و دولت کے ذریعہ پایا۔ورنہ آج بھی مسلمانوں میں ایسے علماء موجود ہیں۔جو تبحر فاضل ہیں مگر ان کو کوئی اس لئے نہیں پوچھتا کہ وہ قلاش ہیں۔“ (صفحہ ۸۵) گویا دیگر ایسے علماء میں صرف دولت کی کمی ہے اگر کوئی ان کو ملازم رکھ لے یا مال و منال سے مالا مال کر دے تو وہ بھی مولوی صاحب ایسے مصلح ، مامور اور ریفارمر‘ بن سکتے ہیں۔انا للہ وانا اليه راجعون۔ذلت وخواری مولوی ثناء اللہ کو خس کم جہاں پاک کا مصداق اس کے فرقہ نے تصور کیا۔چنانچہ (۱) سیرت نگار آٹھ نو صفات میں بصد حسرت اس امر کا نوحہ کناں ہے کہ زندگی میں مولوی صاحب کی بے حد قدر کی گئی لیکن جونہی اس شیر بیشہ ملت کی آنکھیں بند ہوئیں وہ یکسر بھلا دیا گیا فراموش کر دیا گیا۔اس کا نام زندہ رکھنے کا فرض جن افراد قوم جن احباب، جن معتقدین اور جن اکابر جماعت پر عائد ہوتا تھا، انہوں نے تجاہل عارفانہ سے نہیں تغافل مجرمانہ سے کام لیا۔وہ اصحاب جن پر امید تھی کہ اس کے کام اور اس کے مشن کو مرنے نہیں دینگے۔اس کے رخصت ہوتے ہی بیگانے بن گئے اور اس طرح چپ سادھ لی جیسے وہ اس بزرگ سے بھی واقف ہی نہ تھے۔