اصحاب احمد (جلد 5) — Page 440
۴۴۵ ”میاں ہدایت اللہ صاحب احمدی شاعر لاہور پنجاب جو کہ حضرت اقدس کے ایک عاشق صادق ہیں۔اپنی اس بقیہ حاشیہ: میں ایک مدرسہ نصرۃ الاسلام اور مدراس میں مدرسہ احیاء الاسلام کھولے اور ساری عمر تدریس میں گزاری اور بے شمار کتابیں لکھیں ) اور قاضی عبدالاحد خانپوری نے ( جو صاحب علم وفضل تھے اور جنہوں نے خدمت جماعت اہلحدیث اور تبلیغ اسلام میں عمر بسر کر دی تھی ) مولوی ثناء اللہ کے خلاف بہت کچھ لکھا اور کئی کتابیں شائع کیں فیصلہ بالا کے بعد مولانا محمد حسین صاحب نے فیصلہ کے خلاف اپیل بھی کی گومستر دہوئی۔علماء کے فیصلہ کے بعد مئی ۱۹۱۸ء میں مدراس کے ایک جلسہ کے موقع پر پھر یہ مسئلہ چھڑ گیا اور بالآخر ایک مصالحت نامه مابین مولوی ثناء اللہ ”جناب مولانا مولوی حاجی محمد فقیر اللہ صاحب پنجابی اور جناب مولانا قاضی عبدالاحد خانپوری‘ مرتب ہوا۔جس میں مولوی ثناء اللہ نے اقرار کیا۔ہم مقام آرہ میرے حق میں میری تفسیر القرآن الکلام الرحمن کے بعض مضامین کی وجہ سے علمائے اہلحدیث ہندوستان نے جو فیصلہ صادر فرمایا ہے میں اس کو مانتا ہوں اور میر اعملدرآمد اسی پر رہے گا۔اگر اس کے علاوہ کبھی میری کوئی غلطی جو خلاف اصول محدثین اہل سنت بالجماعت ثابت کی جائے گیا تو مجھ کو اس کے مان لینے اور رجوع کرنے میں تامل و عذر نہ ہو گا۔“ گویا اس مخالفت پر یہاں تک پندرہ سال بیت چکے تھے اور خواری پر خواری نصیب ہو رہی تھی اور خاک مذلت میں لوٹ پیٹ کی جارہا تھا لیکن کسی طرح پیچھا نہیں چھوٹتا تھا۔علم کی پردہ دری کی جارہی تھی کن کے ہاتھوں ؟ اپنے ہی فرقہ کے چوٹی کے علماء کے ہاتھوں جو اسی فرقہ میں اہل علم وفضل شمار ہوتے تھے۔مولوی عبد الواحد غزنوی ( جو سیرۃ نگار کے نزدیک نہایت صالح مخلص ، متقی اور خدا رسیدہ انسان تھے۔نماز نہایت خشوع خضوع سے پڑھا کرتے جس سے خشیت الہی طاری ہو جاتی اور دعا میں تو اکثر تضرع اور زاری ہوا کرتی جس سے حاضرین پر بھی خاص اثر پڑتا ) مولا نا عبدالمجید ہزاروی مؤلف سیرۃ کے نزدیک ” نہایت مخلص متقی اور شب زندہ دار عالم ہیں۔آپ کی مخالفت میں بھی خلوص نظر آتا ہے ریاء نہیں ہے اللہ تا دیر سلامت رکھے۔مولانا ابوتراب عبدالحق امرت سری سہارنپور مظاہر العلوم میں مولانا ثناء اللہ صاحب کے ہم سبق تھے۔۔۔طب میں حکیم اجمل خاں مرحوم کے ہم سبق رہے۔حافظ قرآن تھے عالم دین تھے۔مولانا ثناء اللہ صاحب کے خلاف الحق الیقین نامی ایک کتاب بھی لکھی اور اخبار اہلسنت و الجماعت جو آپ نے ۱۹۱۵ء میں جاری کیا تھا گا ہے گا ہے ( مخالف )