اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 421 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 421

۴۲۶ جب نور ہسپتال پہنچا تو آپ نزع کی حالت میں تھے۔اس وقت مجھے وہاں ٹھہرنے کی ہمت نہ ہوئی گھر میں آکر میں نے اپنی سمجھ کے مطابق جو دعا کی وہ یہ تھی کہ خدایا ! میری زندگی لے لے اور انہیں زندہ رکھ۔خدا اگر چاہے اور فضل کرے تو اس صورت میں بھی دعا قبول کر سکتا ہے کہ خاکسار کو اس رنگ میں دین کی خدمت کی توفیق دے جس کے نتیجہ میں ان کے نیک نمونہ کوزندگی حاصل ہو۔( خدا کرے ایسا ہی ہو ) آمین۔-۳۶ آپ کے صاحبزادہ اخویم سید مبارک احمد صاحب سرور تحریر کرتے ہیں حضرت والد صاحب مسائل کے بارے میں سائل کو جواب دینے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتے تھے۔استفسار پر آپ فورا جواب بیان کر دیتے اور کبھی یہ نہ کہتے کہ پھر کسی وقت بتاؤں گا۔مجھے اس وقت فرصت نہیں یا گھر پر آکر دریافت کر لینا بلکہ اسی وقت تفصیل سے جواب بیان کر کے سائل کو مطمئن فرماتے۔چنانچہ بعض اوقات راستہ میں مسئلہ بیان کرتے دوسری نماز کا وقت ہو جاتا اور آپ گھر آنے کی بجائے وہیں سے مسجد واپس تشریف لے جاتے۔آپ کی طبیعت میں سختی نہیں تھی۔ایک روز سخت گرمی کے موسم میں ایک دوست نماز جنازہ کی اطلاع دینے آئے گرمی سے گھبرائے ہوئے تھے والد صاحب کے پوچھنے پر اسی گھبراہٹ میں انہوں نے کہا ” حضور آپ کا جنازہ تیار ہے۔والد صاحب ہنس دئے اور فرمایا میں آتا ہوں۔آپ کی خانگی زندگی بہت پر سکون تھی۔میں نے عمر بھر میں کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے والدہ صاحبہ سے سختی سے بات کی ہو یا چڑ چڑے پن کا اظہار کیا ہو یا ناراض ہوئے ہوں مجھے شادی کے موقع پر نصیحت فرمائی کہ :- قرآنی دعا رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کثرت سے پڑھا کرو۔اب تم پر ذمہ داری پڑنے والی ہے کیا کبھی مجھے تم نے اپنی والدہ سے لڑتے جھگڑتے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں۔فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہماری شادی ہوئی تو میں نے ان سے کہہ دیا تھا کہ ہم ایک سے جذبات رکھتے ہیں ہر ایک کو غصہ بھی آسکتا ہے۔گھروں میں معمولی باتوں سے معاملہ بڑھ جاتا ہے اس لئے جب مجھے کسی بات پر غصہ آتا دیکھیں تو دوسرے کمرے میں چلی جایا کریں اور جب آپ کو غصہ میں دیکھوں گا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں دوسرے کمرے میں چلا جایا کروں گا تا کہ بات نہ بڑھنے پائے۔دیکھنے میں آیا ہے کہ معمولی معاملہ طول پکڑ جاتا ہے۔بیوی خاوند کو جواب دینا شروع کرتی ہے اور باہمی تلخ کلامی بعض اوقات خلع اور طلاق پر منتج ہوتی ہے یا اس وجہ سے گھر یلو سکون اور امن تباہ ہو جاتا ہے۔اس نصیحت سے میری اہلی