اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 407 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 407

۴۱۲ والے بزرگ تھے۔کئی سال تک مجھے آپ کی شاگردی کا فخر حاصل ہوا۔بہت متحمل مزاج۔گہرے غور و فکر کرنے والے۔پختہ علم والے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ مجھے جس قدر مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔انہوں نے بہت اچھی سندات دیں۔ایک موقع پر جبکہ ایک شخص نے طعنے کے طور پر مجھے کہا کہ آپ کو اپنی بہترین سندات پر ہی ناز ہے اس کے اس قول کو سن کر مجھے بہت تکلیف ہوئی اور فور میں نے ان سندات کو لا کر اس کے سامنے پھاڑ دیا اور اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے میں نے کہا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ زبان بولتی ہے اور قائم ہے مجھے یقین ہے کہ ان سندات کی مجھے کوئی ضرورت نہ ہوگی۔حضرت مولوی صاحب اوقات کی پابندی کے عادی تھے۔سکول میں مساجد میں اور دیگر تقاریب میں جن میں آپ کو مدعو کیا جاتا وہاں ٹھیک وقت پر پہنچ جاتے تھے۔اگر چہ آپ کی رہائش محلہ باب الانوار میں تھی لیکن آپ نے اپنا تعلق حلقہ مسجد مبارک سے ہی رکھا اور پانچوں نمازوں کو مسجد مبارک ہی میں ادا کر تے تھے۔خواہ آندھی ہو بارش ہو۔ضعیف العمری میں بھی جو انا وار وقت پر پہنچ کر پہلی صف میں امام کے عین پیچھے تشریف رکھتے تھے۔نماز کو نہایت امن وسکون اور اطمینان قلب سے ادا کرتے تھے اور چونکہ اکثر قیام و سجود میں خاصہ وقت لگ جاتا تھا۔اکثر مرتبہ ایک شاگرد نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ سجدہ میں کتنی مرتبہ تسبیح پڑھتے ہیں تو فرمایا کہ میں تو صرف تین مرتبہ ہی پڑھتا ہوں لیکن اس کے مفہوم کو سوچ کر پڑھتا ہوں۔منطق اور فلسفہ جیسے دقیق مضمون پر آپ کو کامل عبور تھا۔حتی کہ آپ کو روزانہ مطالعہ کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہ ہوتی تھی اور طلبہ کے شوق کو محسوس کر کے ان کو گھر پر پڑھانے کا بھی موقع آپ نہایت بشاشت سے دیتے تھے اور خوشی محسوس کرتے تھے کہ طلباء کو علم حاصل کرنے کا شوق ہے۔مختلف علوم کی طرف آپ کو رغبت آخری عمر تک رہی۔چنانچہ آخری عمر میں انگریزی بھی پڑھنی شروع کی تھی۔چنانچہ جب میں مبلغین کلاس میں تعلیم حاصل کرتا تھا تو ارادہ کیا کہ ساتھ ساتھ میٹرک کا امتحان بھی دے دوں۔آپ سے بوجہ پرنسپل جامعہ احمدیہ ہونے کے اجازت کے لئے عرض کی تو فرمایا کہ انگریزی پڑھنی چاہئے۔میں اس عمر میں بھی انگریزی پڑھنے کا شوق رکھتا ہوں اور پڑھنی شروع کی ہے۔اس سے میری ہمت بندھی اور میں نے چار ماہ ہی میں تیاری کر کے میٹرک کا امتحان صرف انگریزی کا دیا اور اچھے معیار پر کامیاب ہو گیا۔یہ حضرت مولوی صاحب کے اخلاص اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شدید محب کا ہی نتیجہ تھا کہ آپ کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے تین نکاحوں کے اعلان کے لئے منتخب